36558- "مسند علي" عن عبد الله بن سبع قال: خطبنا علي فقال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة لتخضبن هذه من هذه! قال الناس: فأعلمنا من هو لنبيرنه1، قال: أنشدكم بالله أن يقتل بي غير قاتلي، قالوا: إن كنت علمت ذلك فاستخلف الآن، قال: لا ولكن أكلكم إلى ما وكلكم إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا: فما تقول لربك إذا قدمت عليه، قال: أقول: "وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم" حتى توفيتني وهم عبادك، إن شئت أصلحتهم وإن شئت أفسدتهم."ابن سعد، ش، حم والحسن بن سفيان، "ع" والدورقي له الدلائل واللالكائي في السنة والأصبهاني في الحجة، "ض".
٣٦٥٥٨۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا : قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتی ہے اور جان کو پیدا کرتی ہے میرے بدن کا یہ حصہ اس حصہ سے خون آلود ہوگا لوگوں نے کہا : آپ ہمیں بتادیں وہ کون ہوگا جو آپ کو قتل کرے گا تاکہ ہم اس کا صفایا کرلیں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرے قاتل کے علاوہ کوئی اور قتل نہ دیا جائے لوگوں نے کہا : اگر یہی بات ہے تو آپ اسی وقت اپنا خلیفہ مقرر کردیں فرمایا : نہیں لیکن میں تمہیں اسی طرح حوالے کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حوالے کیا تھا لوگوں نے کہا : جب آپ اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں گے اس سے کیا کہیں گے ، جواب دیا : میں کہوں گا ” میں ان پر گواہ رہا ہوں جب تک ان میں رہا حتیٰ کہ تو نے مجھے وفات دی اور وہ تیرے بندے ہیں اگر تو چاہے تو ان کی درستی فرما چاہے تو ان کو بگاڑ دے۔ (رواہ ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل والحسن بن سفیان وابویعلی والدورقی لہ فی الدلائل والالکائی فی السنۃ والاصبھانی فی الحجۃ والضیاء)