36586- "أيضا" عن ابن الحنفية قال: دخل علينا ابن ملجم الحمام وأنا وحسن وحسين جلوس في الحمام، فلما دخل كأنهما اشمأزا منه وقالا: ما أجرأك تدخل علينا! قال فقلت لهما: دعاه عنكما فلعمري ما يريد بكما أحشم من هذا، فلما كان يوم أتي به أسيرا قال ابن الحنفية: ما أنا اليوم بأعرف به مني يوم دخل علينا الحمام، فقال علي: إنه أسير فأحسنوا نزله وأكرموا مثواه، فإن بقيت قتلت أو عفوت، وإن مت فاقتلوه قتلتي ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين."ابن سعد".
٣٦٥٨٦۔۔۔ ” ایضاً “ ابن حنفیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حمام میں ہمارے پاس ابن ملجم آیا میں حسن اور حسین (رض) حمام میں بیٹھے ہوئے تھے جب داخل ہوا تو وہ دونوں۔ (حسن (رض) و حسین (رض)) اس سے کھٹک گئے پوچھا کہ تمہیں ہمارے پاس آنے کی جرات کیسے ہوئی۔ میں نے ان دونوں سے کہا : اسے چھوڑ دو کیونکہ میری عمر کی قسم ! وہ جو کچھ تمہارے ساتھ کرنا چاہتا ہے وہ اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے جو اس نے کیا جب وہ دن آیا کہ اسے گرفتار کرکے لایا گیا تو ابن حنفیہ نے کہا آج کے دن میں اس کو اس دن سے زیادہ پہچاننے والا نہیں ہوں جس دن ہمارے پاس حمام میں داخل ہوا تھا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ اسیر ہے اس لیے اس کی ضیافت اچھی طرح سے کرو اور اس سے اچھا ٹھکانا دو اگر میں بچ گیا تو اسے قتل کروں گا یا معاف کر دوں گا اگر میں مرگیا تو اسے میرے قصاص میں قتل کر دو حد سے آگے نہ بڑھو چونکہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (رواہ ابن سعد)