hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36602

.

كنز العمال

36602
Kanz al-Ummal
36592- عن طلحة بن عبيد الله قال: خطب عمر بن الخطاب أم أبان بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس فأبته، فقيل لها: ولم؟ قالت: إن دخل دخل ببأس وإن خرج خرج بباس، قد داخله أمر أذهله عن أمر دنياه كأنه ينظر إلى ربه بعينه؛ ثم خطبها الزبير بن العوام فأبته، فقيل لها: ولم؟ قالت: ليس لزوجته منه إلا شارة في قراملها؛ ثم خطبها علي فأبت، فقيل لها: ولم؟ قالت: ليس لزوجته منه إلا قضاء حاجته ويقول: كنت وكنت وكان وكان؛ ثم خطبها طلحة فقالت: زوجي حقا، فقيل: وكيف ذلك؟ قالت: إني عارفة بخلائقه، إن دخل دخل ضحاكا وإن خرج خرج بساما، إن سألت أعطى، وإن سكت ابتدأ، وإن عملت شكر، وإن أذنبت غفر؛ فلما أن ابتنى بها قال علي:يا أبا محمد! إن أذنت لي أن أكلم أم أبان! قال كلمها، فأخذ سجف1 الحجلة ثم قال: السلام عليك يا عزيزة نفسها! فقالت: وعليك السلام، قال: خطبك أمير المؤمنين وسيد المسلمين فأبيته، قالت: كان ذلك، قال: وخطبك الزبير ابن عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم وأحد حواريه فأبيته، قالت: وقد كان ذلك، قال: وخطبتك أنا وقرابتي من رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: قد كان ذلك، قال أما والله! لقد تزوجت أحسننا وجها وأسمحنا كفا يعطي هكذا وهكذا. "كر".
٣٦٥٩٢۔۔۔ طلحہ بن عبید اللہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس کو پیغام نکاح بھیجا ام ابان نے انکار کردیا اس سے انکار کی وجہ دریافت کی گئی کہنے لگی : اگر گھر میں داخل ہو خوف سے داخل ہوتا ہے باہر نکلے تب بھی خوف برپا کرتا ہے اس پر ایسی کیفیت طاری ہے کہ دنیا کے معاملات سے اسے غافل کردیا ہے یوں لگتا ہے گویا وہ اپنی آنکھ سے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پھر حضرت زبیر بن عوام (رض) نے ام ابان کو پیغام نکاح بھیجا اس نے انکار کردیا انکار کی وجہ دریافت کی گئی تو کہنے لگی : اس کی بیوی کی صرف اون کی لٹوں سے شہد میسر ہوسکتا ہے پھر حضرت علی (رض) نے اسے پیغام نکاح بھیجا لیکن ام ابان نے انکار کردیا اس سے انکار کی وجہ سے دریافت کی گئی کہنے لگی اس کی بیوی اس سے صرف اپنی خواہش ہی پوری کرسکتی ہے اور کہتا ہے کہ میں تھا اور میں تھا اور وہ تھا پھر اسے طلحہ (رض) نے پیغام بھیجا کہنے لگی : جی ہاں یہی میرا خاوند بن سکتا ہے وجہ دریافت کی گئی کہ یہ کیسے ؟ کہنے لگی : میں اس کی عمدہ عادات سے بخوبی واقف ہوں اگر گھر میں داخل ہوتا ہے تو ہنستا ہوا داخل ہوتا ہے اور باہر جاتا ہے تو مسکراتے ہوئے نکلتا ہے اگر میں اس سے کچھ مانگوں گی وہ مجھے عطا کرے گا اگر میں خاموش رہوں تو وہ خود ابتدا کر دے گا اگر میں کام کروں گی تو وہ شکر ادا کرے گا اور اگر مجھ سے غلطی سرزد ہوئی تو معاف کر دے گا چنانچہ جب حضرت طلحہ (رض) ام ابان کو۔ (بعد از نکاح) اپنے گھر لائے حضرت علی (رض) نے طلحہ (رض) سے کہا : اے ابو محمد ! اگر مجھے اجازت دو میں ام ابان سے بات کرلوں ؟ کہا : جی ہاں اجازت ہے حضرت علی (رض) نے حجلہ عروسی کا پردہ اٹھایا اور پھر کہا : السلام علیکم ! اے اپنے آپ کو بالاتر سمجھنے والی ! ام ابان نے کہا : وعلیکم السلام حضرت علی (رض) بولے : تجھے امیر المومنین سید المسلمین نے پیغام نکاح بھیجا تم نے انکار کردیا ام ابان بولی : جی ہاں یہی بات ہے حضرت علی (رض) نے کہا : تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پھوپھی زاد بھائی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ہیں نے پیغام نکاح بھیجا تم نے انکار کردیا بولی : جی ہاں یہی بات ہے پھر کہا : میں نے تجھے پیغام نکاح بھیجا حالانکہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرابتداری بھی ہے لیکن تم نے انکار کردیا بولی جی ہاں بات ایسی ہی ہے حضرت علی (رض) نے فرمایا : بخدا ! تم نے ایسے شخص سے شادی کی ہے جو ہم سب سے زیادہ خوبصورت ہے زیادہ سخی ہے وہ یوں اور یوں عطاء کرتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)