36600- عن الزهري قال: لما كان يوم أحد وانهزم المسلمون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بقي في اثني عشر من المهاجرين والأنصار منهم طلحة بن عبيد الله، فذهب رجل من المشركين يضرب وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسيف، فوقاه طلحة بيده، فلما أصاب طلحة السيف قال: حس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه يا طلحة! ألا قلت "بسم الله" لو قلت "بسم الله" وذكرت الله لرفعتك الملائكة والناس ينظرون. "كر".
٣٦٦٠٠۔۔۔ زہری کی روایت ہے غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور ہوگئے حتیٰ کہ آپ کے پاس مہاجرین و انصار میں سے صرف بارہ آدمی باقی رہے ان میں سے ایک طلحہ (رض) بھی تھے ایک مشرک تلوار لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر ضرب لگانے کے لیے آگے بڑھا حضرت طلحہ (رض) نے تلوار کا وار اپنے ہاتھ پر روکا اور جب تلوار ہاتھ پر لگی کہا : ” حسن “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے طلحہ ! رک جا تم نے بسم اللہ “ کیوں نہیں کہا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا ذکر کردیتے فرشتے تمہیں اوپر اٹھالیتے اور لوگ تمہیں دیکھتے رہ جاتے۔ (رواہ ابن عساکر)