hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36617

.

كنز العمال

36617
Kanz al-Ummal
36607- عن طلحة قال: لما كان يوم أحد ارتجزت بهذا الشعر: نحن حماة غالب ومالك. ... نذب عن رسولنا المبارك نضرب عنه القوم في المعارك. ... ضرب صفاح الكوم في المبارك وما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد حتى قال لحسان: قل في طلحة فقال: وطلحة يوم الشعب آسى محمدا. ... على ساعة ضاقت عليه وشقت يقيه بكفيه الرماح وأسلمت. ... أشاجعه تحت السيوف فشلت وكان إمام الناس إلا محمدا. ... أقام رحى الإسلام حتى استقلت وقال أبو بكر الصديق رضي الله عنه: حمى نبي الهدى والخيل تتبعه. ... حتى إذا ما لقوا حامي عن الدين صبرا على الطعن إذ ولت حماتهم. ... والناس من بين مهدي ومفتون يا طلحة بن عبيد الله قد وجبت. ... لك الجنان وزوجت المها العين وقال عمر رضي الله عنه: حمى نبي الهدى بالسيف منصلتا. ... لما تولى جميع الناس وانكشفوا قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: صدقت يا عمر. "كر" وفيه سليمان بن أيوب الطلحي.
٣٦٦٠٧۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن میں یہ رجز یہ اشعار پڑھتا رہا ہوں۔
نحن حماۃ غالب ومالک نذب عن رسولنا المبارک
نضرب عنہ القوم فی المعارک صرب صفاح الکوم فی المبارک
ہم غالب ومالک خدا تعالیٰ کے حمایتی ہیں اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو مبارک ہیں ان کا دفاع کر رہے ہیں ہم ان کی طرف سے معرکوں میں لوگوں کے سروں پروار کرتے ہیں۔
چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد سے واپس لوٹے حضرت حسان (رض) سے فرمایا : طلحہ کی مدح میں اشعار کہو حضرت حسان (رض) نے یہ اشعار پڑھے۔
وطلحۃ یوم الشعب آسی محمدا علی ساعۃ ضاقت علیہ وشقت
گھانی والے دن طلحہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھرپور غمخواری کی ایک ایسی گھڑی میں جو سخت تنگی اور مشقت والی تھی۔
یقیہ بکفیہ الرماح واسلمت اشاجعہ تحت السیوف فشت
اپنے ہاتھوں سے تیروں کو روکتا رہا جس کی وجہ سے اس کی انگلیاں تلواروں تلے شل ہوگئیں۔
وکان امام الناس الا محمدا اقام رحی الاسلام حتی استقلت
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے امام تھے اسلام کی چکی کو قائم و دائم رکھنا حتی کہ اسلام میں استقلال آگیا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ونہ نے حضرت طلحہ (رض) کی مدح میں یہ اشعار کہے۔
حمی نبی الھدی والخیل تتبعہ حتی اذا ما لقو حامی عن الدین
اس نے ہدایت دینے والے نبی کی حفاظت کی جب کہ گھوڑے اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے حتیٰ کہ جب مقابلہ ہوا تو وہ دین کی
حفاظت کرچکے تھے۔
صبر اعلی الطعن اذولت حماتھم والناس من بین مھدی ومفتون
نیزوں کی زخموں پر صبر کیا جب حفاظت کرنے والے منہ پھیر چکے جب کہ لوگ ہدایت ملنے اور فتنہ میں پڑنے کے بین بین تھے۔
حضرت عمر (رض) طلحہ (رض) کی مدح میں یہ شعر کہا :
حمی نبی الھدی بالسیف منصلتا لما تولی جمیع الناس وانکشفوا
ہدایت پہنچانے والے نبی کی تلوار سے حفاظت کی جب لوگ پیٹھ پھیر کر ادھر ادھر ہوگئے۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اے عمر : تم نے سچ کہا : (رواہ ابن عساکر وفیہ سلیمان بن ایوب الطلحی)