hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36684

.

كنز العمال

36684
Kanz al-Ummal
36674- عن سلمة بن الأكوع قال: لما قدم خالد بن الوليد على النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما صنع ببني جذيمة ما صنع عاب عبد الرحمن بن عوف على خالد ما صنع، قال: يا خالد! أخذت بأمر الجاهلية قتلتهم بعمك الفاكه قاتلك الله! وأعانه عمر بن الخطاب على خالد، فقال خالد: أخذتهم بقتل أبيك، فقال عبد الرحمن: كذبت والله لقد قتلت قاتل أبي بيدي وأشهدت على قتله عثمان بن عفان، ثم التفت إلي عثمان فقال: أنشدك الله هل علمت أني قتلت قاتل أبي؟ فقال عثمان: اللهم! نعم، ثم قال عبد الرحمن: ويحك يا خالد! ولو لم أقتل قاتل أبي كنت تقتل قوما من المسلمين بأبي في الجاهلية؟ قال خالد: ومن أخبرك أنهم أسلموا؟ فقال: أهل السرية كلهم يخبرون أنك قد وجدتهم قد بنوا المساجد وأقروا بالإسلام ثم حملتهم على السيف! قال: جاءني أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أغير عليهم، فأغرت بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عبد الرحمن: كذبت على رسول الله صلى الله عليه وسلم - وغالظ عبد الرحمن، وأعرض رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خالد وغضب عليه، وبلغه ما صنع بعبد الرحمن فقال: يا خالد! ذروا لي أصحابي، متى ينك أنف المرء ينكأ المرء، ولو كان أحد ذهبا تنفقه قيراطا قيراطا في سبيل الله لم تدرك غدوة أو روحة من غدوات أو روحات عبد الرحمن. الواقدي، "كر".
٣٦٦٧٤۔۔۔ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید (رض) نے بنی خزیمہ کے ساتھ جو کچھ کیا سو کیا اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے عبد الرحمن بن عوف (رض) حضرت خالد (رض) پر بنی خزیمہ کے ساتھ کیے گئے واقعے کا عیب لگایا حضرت خالد (رض) نے کہا : تو نے امر جاہلیت کو تھاما ہے تو نے انھیں اپنے پرانے غم کی وجہ سے قتل کردیا ہے اللہ تجھے کبھی قتل کرے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت خالد (رض) کے خلاف حضرت عبد الرحمن (رض) کی مدد کی خالد (رض) نے کہا : تم نے اپنے باپ کے بدلہ میں انھیں قتل کیا ہے حضرت عبد الرحمن (رض) نے کہا : تم نے جھوٹ بولا : بخدا میں اپنے باپ کے قاتل کو خود قتل کیا ہے اور اس پر عثمان بن عفان (رض) کو گواہ بنایا تھا پھر عثمان (رض) نے جواب دیا : جی ہاں پھر عبد الرحمن (رض) نے کہا : اے خالد ! افسوس ہے اگر میں نے اپنے باپ کے قاتل کو قتل کیا ہوتا تو جاہلیت میں تم میرے باپ کے بدلہ میں ایک قوم کو قتل کرچکے ہوتے حضرت خالد نے کہا : تمہیں کس نے خبر کی ہے کہ وہ اسلام لاچکے تھے ؟ عبد الرحمن (رض) نے جواب دیا : سر یہ میں شریک لوگ سب کہتے ہیں کہ تم نے انھیں اس حال میں پایا کہ وہ مساجد بنا رہے تھے اور اسلام کا اقرار کرتے تھے پھر تم نے ان پر تلوار چلائی حضرت خالد (رض) نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ملا تھا کہ میں ان پر حملہ کردوں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر حملہ کیا ہے عبد الرحمن (رض) نے کہا : تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ بولا عبد الرحمن (رض) نے بہت غصہ کیا اور برا بھلا کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد (رض) سے منہ پھیرلیا اور ان پر غصہ کا اظہار کیا آپ کو یہ خبر بھی پہنچی کہ انھوں نے حضرت عبد الرحمن (رض) کے ساتھ بحث و مباحثہ بھی کیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اے خالد ! میرے صحابہ (رض) کو چھوڑو جب کسی آدمی کی ناک زخمی کی جاتی ہے گویا وہ آدمی ہی زخمی ہوجاتا ہے اگر کسی شخص کے پاس ڈھیروں سونا ہو اور وہ اللہ کی راہ میں ایک قیراط خرچ کرتا رہے وہ عبد الرحمن کی ایک صبح یا ایک شام کو نہیں پہنچ سکتا۔ (رواہ الوافدی وابن عساکر)