36693- عن عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ابن عوف! إنك من الأغنياء ولن تدخل الجنة إلا زحفا، فأقرض الله يطلق لك قدميك، قال: فما الذي أقرض الله يا رسول الله؟ قال: تبرأ مما أنت فيه، قال: أمن كلها جميع يا رسول الله؟ قال: نعم، فخرج ابن عوف وهو يهم بذلك، فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أتاني جبريل قال: مر ابن عوف فليضف الضيف وليطعم المساكين وليعط السائل ويبدأ بمن يعول، فإذا فعل ذلك كان تزكية ما هو فيه. "عد، كر".
٣٦٦٩٣۔۔۔ عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! تم مالدار لوگوں میں سے ہو اور جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوگئے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو قرض دو تاکہ تمہارے قدموں کو آزاد کر دے عرض کیا : میں کیا چیز اللہ تعالیٰ کو قرض دوں ؟ فرمایا : ایسا کرنے سے تم اس مشکل سے آزاد ہوجاؤ گے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ساری مشکلات سے میں بےخوف ہوجاؤں گا فرمایا : جی ہاں ابن عوف (رض) دل میں یہ فکر لیے باہر نکلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل امین آئے اور فرمایا : ابن عوف کو حکم دو کہ مہمان کی مہمان نوازی کرے مسکینوں کو کھانا کھلائے سائل کو عطاء کرے اور اپنے عیال سے ابتداء کرے یوں جب وہ اس طرح کرے گا اپنی مشکل سے نکل جائے گا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)