36714- عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: وفدنا إلى معاوية ومعنا أبو بكرة فقال: يا أبا بكرة! حدثنا بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال أبو بكرة: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم تعجبه الرؤيا الحسنة ويسأل عنها وأنه قال ذات يوم: أيكم رأى رؤيا؟ فقال رجل من القوم: أنا رأيت ميزانا دلي من السماء فوزنت أنت وأبو بكر فرجحت بأبي بكر ووزن فيه أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر بعمر، ووزن فيه عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان؛ فاستأولها نبي الله صلى الله عليه وسلم أي أولها فقال: خلافة نبوة ويؤتي الله الملك من يشاء، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قتل نفسا معاهدة بغير حقها لم يجد ريح الجنة وإن ريحها ليوجد من مسيرة خمسمائة سنة، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليردن علي الحوض رجال ممن صحبني ورآني وإذا رفعوا إلي ورأيتهم اختلجوا دوني فأقول: رب! أصحابي - وفي لفظ: أصحابي - فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك. "كر".
٣٦٧١٤۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ کی روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ (رض) کے پاس وفد کی شکل میں حاضر ہوئے ہمارے ساتھ ابوبکر (رض) بھی تھے معاویہ (رض) نے کہا : اے ابوبکر (رض) ہمیں کوئی حدیث سناؤ جو تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اچھا خوب سنا دل کو بیانا تھا آپ سے خواب کی تعبیر لی جاتی تھی چنانچہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص نے خواب دیکھا ہے ؟ صحابہ (رض) میں سے ایک شخص بولا : یا رسول اللہ ! میں نے آج رات خواب میں ترازو دیکھا جو آسمان سے لٹکا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کو اور ابوبکر کو ترازو میں تو لا گیا آپ کا پلڑا بھاری نکلا پھر ابوبکر و عمر (رض) کو ترازو میں رکھا گیا ابوبکر عمر (رض) پر بھاری نکلے پھر عمرو عثمان (رض) کا وزن کیا گیا عمر (رض) عثمان (رض) پر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس کی تعبیر بتلاوں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تعبیر بتلائی کہ اس سے مراد نبوت کی خلافت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ناحق کسی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمائی : حوض پر میرے پاس میرے صحابہ (رض) میں سے بہت سے لوگ وارد ہوں گے وہ جب میرے پاس لائے جائیں گے مجھ سے پرے ہی روک دئیے جائیں گے میں کہوں گا میرے صحابہ (رض) تو بہت سارے ہیں جواب دیا جائے گا : تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے بعد انھوں نے کہا کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)