36733- "أيضا" قال أبو حفص عمر بن عبد المجيد الميانشي في المجالس المكية ثنا الشيخ الإمام زين الدين أبو محمد عبد الله شميلة بن أبي هاشم الحسني حدثنا الشيخ الإمام الزاهد أبو سعيد محمد بن سعيد الريحاني وعاش مائة وعشرين سنة ثنا سالم بن عبد الله بن سالم وعاش مائة وثلاثين سنة ثنى أبو الدنيا الأشج ثنى علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ثبت العرش إلا بحب أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وما رفع أركان العرش إلا بحب جبريل وميكائيل وإسرافيل وما خدم الله أجل منهم. قال الميانشي: هذا حديث حسن ورد إلينا كما نقلنا وهو خماسي في غاية العلو، قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي لا والله! ما هو بحسن ولا ضعيف بل باطل وأبو الدنيا أحد الكذابين الكبار، ادعى بعد الثلاثمائة أنه سمع من علي فكذبه الناس، والعجب من قول الميانشي: إنه حسن.
٣٦٧٣٣۔۔۔ ” ایضاً “ ابو حفص عمر بن عبد المجید المیانشی (نے مجالس مکیہ میں لکھا) شیخ امام زین الدین ابو محمد عبداللہ شمیلہ بن ابی ہاشم حسنی شیخ امام زاہد ابو سعید محمد بن سعید ریحانی (یہ ١٢٠ سال زندہ رہے) سالم بن عبداللہ بن سالم (یہ ١٣٠ سال زندہ رہے) ابو دینا اشج کہتے ہیں مجھے حضرت علی (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عرش صرف ابوبکر عمر عثمان اور علی (رض) کی محبت ہی سے ثابت رہ سکتا ہے اور عرش کے ارکان صرف جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور اللہ عزوجل کے خادم فرشتوں ہی کی محبت سے اٹھایا جاسکتا ہے۔
کلام : ۔۔۔ میانشی کہتے ہیں یہ حدیث درجہ حسن میں ہے اور یہ حسن کے درجہ تک پہنچی ہے مصنف کہتے ہیں : شیخ جلال الدین سیوطی (رح) کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ حدیث نہ حسن ہے اور نہ ہی ضعیف ہے بلکہ باطل ہے چونکہ ابو دنیا بڑے بڑے کذابوں میں سے ایک کذاب ہے چنانچہ تین سو سال کے بعد اس نے دعوی کردیا کہ اس نے حضرت علی (رض) سے سماع کیا ہے تاہم لوگوں نے سختی سے اس کی تکذیب کی ہے تعجب تو میانشی کے قول سے ہوا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔