hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36746

.

كنز العمال

36746
Kanz al-Ummal
36736- عن عبد الله بن عمر قال: لما طعن عمر بن الخطاب وأمر بالشورى دخلت عليه حفصة فقالت له: يا أبت! إن الناس يزعمون أن هؤلاء الستة ليسوا برضا، فقال: اسندوني، فأسندوه، فقال: ما عسى أن يقولوا في علي بن أبي طالب! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: يا علي! مد يدك في يدي تدخل معي يوم القيامة حيث أدخل؟ ما عسى أن يقولوا في عثمان بن عفان! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: يوم يموت عثمان تصلي عليه ملائكة السماء، قلت: يا رسول الله! لعثمان خاصة أم للناس عامة؟ قال: لعثمان خاصة، ما عسى أن يقولوا في طلحة بن عبيد الله! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ليلة وقد سقط رحله: من يسوي لي رحلي وهو في الجنة؟ فبدر طلحة بن عبيد الله فسواه له حتى ركب، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا طلحة! هذا جبريل يقرئك السلام ويقول: أنا معك في أهوال يوم القيامة حتى أنجيك منها! ما عسى أن يقولوا في الزبير بن العوام! رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وقد نام فجلس الزبير يذب عن وجهه حتى استيقظ فقال له: يا أبا عبد الله! لم تزل؟ فقال: لم أزل بأبي أنت وأمي! قال: هذا جبريل يقرئك السلام ويقول: أنا معك يوم القيامة حتى أذب عن وجهك جهنم، ما عسى أن يقولوا في سعد بن أبي وقاص! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول يوم بدر وقد أوتر قوسه أربع عشرة مرة يدفعها إليه ويقول: ارم فداك أبي وأمي! ما عسى أن يقولوا في عبد الرحمن بن عوف! رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: وهو في منزل فاطمة والحسن والحسين يبكيان جوعا ويتضوران فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يصلنا بشيء؟ فطلع عبد الرحمن بن عوف بصحفة فيها حيسة ورغيفان بينهما إهالة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: كفاك الله أمر دنياك! وأما أمر الآخرة فأنا لها ضامن. "معاذ بن المثنى في زيادات مسند مسدد، "طس" وأبو نعيم في فضائل الصحابة وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات وأبو الحسين بن بشران في فوائده، "خط" في تلخيص المتشابه، "كر" والديلمي وسنده صحيح".
٣٦٧٣٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی کر دئیے گئے اور آپ (رض) نے امر خلافت کے متعلق شوریٰ قائم کردی آپ کی خدمت میں حضرت حفصہ (رض) داخل ہوئیں اور عرض کیا : اے ابا جان ! لوگ کہتے ہیں یہ چھ لوگ پسندیدہ نہیں ہیں عمر (رض) نے فرمایا : مجھے سہارا دوں لوگوں نے آپ کو سہارا دے کر بیٹھایا آپ نے فرمایا : علی بن ابی طالب کے متعلق لوگ کچھ نہ کہیں چونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ اے علی ! میرے ہاتھ میں ہاتھ دو قیامت کے دن میرے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے عثمان بن عفان کے متعلق بھی کچھ نہ کہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے جس دن عثمان (رض) کو موت آئے گی اس پر آسمان کے فرشتے نماز پڑھیں گے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خصوصاً عثمان (رض) کے لیے یا سب مومنین کے لیے فرمایا : خصوصاً عثمان کے لیے طلحہ بن عبید اللہ کے متعلق کچھ نہ کہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک رات فرماتے سنا ہے درآنحالیکہ آپ کا کجاوہ گرنے لگا تھا آپ نے فرمایا : میرا کجاوہ جو درست کرے گا جنت میں داخل ہوگا طلحہ (رض) نے بھاگ کر کجاوہ درست کیا اور آپ (رض) سواری پر سوار ہوئے پھر فرمایا : اے طلحہ ! یہ جبرائیل کھڑے ہیں اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور کہتے ہیں قیامت کی ہول ناکیوں میں میں تمہارے ساتھ رہوں گا حتیٰ کہ تمہیں ان سے نکال لوں ۔ زبیر بن عوام کے متعلق بھی نہ کہیں چونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دن سوتے ہوئے دیکھا اور آپ کے پاس زبری (رض) چہرہ اقدس سے مکھیاں دفع کرنے بیٹھ گئے حتیٰ کہ جب آپ بیدار ہوئے ارشاد فرمایا : اے ابو عبداللہ : تم یہاں سے گئے نہیں ہو جواب دیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں نہیں گیا : آپ نے ارشاد فرمایا : یہ جبرائیل کھڑے ہیں تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور کہتے ہیں : قیامت کے دن میں تمہارے ساتھ ہوں گا حتیٰ کہ جہنم کو تم سے دور کردوں سعد بن ابی وقاص کے متعلق بھی کچھ نہ کہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے بدر کے دن جب کہ سعد نے اپنی کمان میں چودہ مرتبہ و تر ڈالا فرمایا : تم پر میرے ماں باپ فدا جائیں تیر برساؤ عبد الرحمن بن عوف کے بارے میں بھی کچھ نہ کہیں چنانچہ میں نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ (رض) کے گھر میں دیکھا جب کہ حسن (رض) اور حسین (رض) مارے بھوک کے رو رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے پاس کون شخص کوئی چیز لائے گا ؟ چنانچہ عبد الرحمن بن عوف (رض) ایک برتن لیے نمودار ہوئے اس میں حلوا اور دو روٹیاں تھیں روٹیوں کے درمیان چربی رکھی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہاری کفایر کرے اور تمہاری آخرت کا میں ضامن ہوں۔ (رواہ اماذ بن المثنی فی زیارات مسند مسدد والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الفضائل للصحابۃ وابو بکر الشافعی فی الغیلانیات وابو الحسن بن بشران فی فوائدہ والخطیب فی تلخیص المتشابہ وابن عساکر والدیلمی وسندہ صحیح)