36765- عن أبي نضرة قال قال: رجل منا يقال له جبر أو جبير قال: طلبت حاجة إلى عمر في خلافته فانتهيت إلى المدينة ليلا فقدمت عليه وقد أعطيت فطنة ولسانا - أو قال: منطقا - فأخذت في الدنيا فصغرتها فتركتها لا تسوى شيئا وإلى جنبه رجل أبيض فقال لما فرغت: كل قولك كان مقاربا إلا وقوعك في الدنيا، وهل تدري ما الدنيا؟ إن الدنيا فيها بلاغنا - أو قال زادنا - إلى الآخرة وفيها أعمالك التي تجزى بها في الآخرة، قال: فأخذ في الدنيا رجل هو أعلم بها مني فقلت: يا أمير المؤمنين من هذا الرجل الذي إلى جنبك؟ قال: سيد المسلمين أبي بن كعب. "خ" في الأدب، "كر".
٣٦٧٦٥۔۔۔ ابو نضرہ کی روایت ہے ہمارا ایک شخص جسے جبریا جبیر کہا جاتا تھا کہتا ہے میں حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں مدینہ پہنچا اور آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھ داری اور بات کرنے کا سلیقہ عطا کر رکھا تھا میں دنیا داری کی باتیں کرنے لگا اور دنیا کی خوب تحقیر بیان کی کہ دنیا کی ہر شے ذلیل ہے آپ (رض) کے پہلو میں ایک سفید رنگت والا شخص بیٹھا ہوا تھا جب میں بات کرکے فارغ ہوا آپ (رض) نے فرمایا : تمہاری ہر بات درست ہے سوائے اس کے کہ تم دنیا کے پیچھے پڑگئے ہوں کیا تم جانتے ہو دنیا کیا ہے ؟ اسی دنیا ہی میں ہمارا گزر بسر ہے اور آخرت کے لیے ہمارا توشہ ہے اسی دنیا میں تمہارے اعمال ہیں جن کا تمہیں آخرت میں بدلہ دیا جائے گا۔ چنانچہ ایک شخص دنیا میں رہتا ہے جو مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! یہ کون شخص ہے جو آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے ؟ فرمایا : یہ مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب ہیں۔ (رواہ البخاری فی الادب وابن عساکر)