36774- "أيضا" عن أبي ادريس الخولاني أن أبي بن كعب قال لعمر: والله يا عمر! إنك لتعلم أني كنت أحضر وتغيبون وأدني وتحجبون ويصنع بي ويصنع بي والله لئن أحببت لألزمن بيتي فلا أحدث شيئا ولا أقرئ أحدا حتى أموت، فقال عمر بن الخطاب اللهم! غفرا، إنا لا نعلم أن الله قد جعل عندك علما فعلم الناس ما علمت. ابن أبي داود في المصاحف، "كر".
٣٦٧٧٤۔۔۔ ” ابو ادریس خولانی کی روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا : اے عمر ! اللہ کی قسم آپ جانتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر رہتا تھا اور تم لوگ آتے رہتے تھے مجھے قریب کیا جاتا تھا جب کہ لوگوں کے آگے پردہ کردیا جاتا تھا میرے ساتھ یہ اور یہ ہوتا تھا بخدا اگر میں چاہتا اپنے گھر ہی سے چمٹا رہتا اور کوئی حدیث نہ سناتا اور کسی کو نہ پڑھتا تاوقتیکہ مجھے موت آجاتی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! تیری مغفرت یقیناً ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس علم رکھا ہے لیکن جتنا علم بھی رکھتے ہو لوگوں کو سکھاتے جاؤ۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف وابن عساکر)