hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36787

.

كنز العمال

36787
Kanz al-Ummal
36777- "أيضا" عن ابن عباس قال: بينما أنا أقرأ آية من كتاب الله في سكة من سكك المدينة إذ سمعت صوتا من خلفي:أتبع يا ابن عباس! أتبع يا ابن عباس! يعني أسند، فالتفت فإذا عمر بن الخطاب فقلت: أتبعك على أبي بن كعب، فقال لمولى له: اذهب معه إلى أبي فقل له: أنت أقرأته هذه الآية؟ فانطلقنا إلى أبي فأنا لببابه إذ جاء عمر فاستأذن له فدخلنا على أبي وجاء زيد يدري رأسه بمدرى1 فطرح لعمر وسادة من أدم فجلس عليها وأبي مقبل بوجهه على حائط وظهره إلى عمر، قال فالتفت إلينا عمر وقال: ما يرانا هذا شيئا! ثم أقبل أبي عليه بوجهه وقال: مرحبا يا أمير المؤمنين! أزائرا جئت أو طالب حاجة؟ قال: لا بل طالب حاجة، علام تقنط الناس يا أبى؟ قال: وكأنها آية فيها شدة فقال أبي: إني تلقيت القرآن ممن تلقاه من جبريل وهو رطب، قال فصفق عمر وقام وهو يقول: بالله ما أنت بمنته وما أنا بصابر! والله ما أنت بمنته وما أنا بصابر. "كر".
٣٦٧٧٧۔۔۔ ” ایضاً “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں کتاب اللہ کی ایک آیت پڑھا جا رہا تھا یکایک میں نے اپنے پیچھے ایک آواز سنی کہ : اے ابن عباس اس آیت کی سند بیان کرو میں نے جو پیچھے مڑ کر دیکھا تو عمر بن خطاب (رض) ہیں میں نے کہا : میں آپ کو ابی بن کعب کی سند پیش کرتا ہوں۔ آپ (رض) نے اپنے غلام سے فرمایا : اس کے ساتھ ابی بن کعب کے پاس چلو اور اس سے کہو کیا تم ہی نے یہ آیت ابن عباس کو پڑھائی ہے ؟ ہم حضرت ابی (رض) کے پاس پہنچے ابھی ہم دروازے پر ہی پہنچے تھے کہ اتنے میں عمر (رض) تشریف لے آئے اور اجازت طلب کی ہم تینوں ابی (رض) کے پاس داخل ہوئے اتنے میں زید (رض) بھی کھرچن سے سرکھر چتے ہوئے آن پہنچے عمر (رض) کے لیے ایک تکیہ پھینک دیا اور آپ اس پر بیٹھ گئے جب کہ ابی (رض) یوں بیٹھے تھے کہ ان کا منہ دیوار کی طرف تھا اور پست حضرت عمر (رض) کی طرف عمر (رض) کی طرف عمر (رض) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : یہ شخص ہمیں کچھ نہیں سمجھتا۔ پھر ابی (رض) عمر (رض) کی طرف منہ کرکے متوجہ ہوئے اور کہا : اے امیر المومنین ! مرحبا کیا آپ ہم سے ملاقات کرنے آئے ہیں یا کوئی کام سے ؟ فرمایا : نہیں بلکہ کام ہے۔ اے ابی ! لوگوں کو کیوں ناامید کرتے ہو ؟ ابن عباس کہتے ہیں : یہ آیت کی طرف اشارہ تھا جس میں شدت تھی، ابی (رض) نے جواب دیا : میں نے اس ہستی سے قرآن حاصل کیا ہے جس نے براہ راست جبرائیل امین سے حاصل کیا ہے اور قرآن اس وقت تازہ تازہ تھا حضرت عمر (رض) نے تالی بجائی اور اٹھ کھڑے ہوئے اور کہتے جا رہے تھے : اللہ کی قسم ! تم باز نہیں آؤ گے اور میں صبر کرنے والا بھی نہیں ہوں اللہ کی قسم ! تم باز نہیں آؤ گے اور میں صبر کرنے والا بھی نہیں ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)