36786- "مسنده" عن أبيض بن حمال أنه كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصدقة حين وفد عليه، قال: يا أخا سبأ لا بد من صدقة فقال: إنما زرعنا القطن يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! وقد تبددت سبأ ولم يبق منهم إلا قليل بمأرب، فصالح نبي الله صلى الله عليه وسلم سبعين حلة من قيمة وفاء بز المعافر كل سنة عمن بقي من سبأ بمأرب، فلم يزالوا
يؤدونها حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن العمال انتقضوا عليهم بعد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما صالح أبيض بن حمال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحلل السبعين، فرد ذلك أبو بكر على ما وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات أبو بكر، فلما مات أبو بكر انتقض ذلك وصارت على الصدقة. "د،1، طب، ض".
٣٦٧٨٦۔۔۔ ” مسندہ “ ابیض بن جمال (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صدقہ کے متعلق بات کی جب وہ وفد کی صورت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے سبا کے بھائی صدقہ کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کپاس کاشت کرتے ہیں جب کہ سبا قوم مارک سے ہلاک ہوچکی ہے اور ان میں سے تھوڑے لوگ ہی باقی بچے ہیں تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر سال ستر جوڑوں کی قیمت جو معافر کپڑے کی قیمت کے برابر ہو دینے پر صلح کرلی یہ ٹیکس ان لوگوں پر لاگو کیا تھا جو سبا قوم میں سے ابھی باقی تھے اہل صبا لگاتار ٹیکس دیتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے چنانچہ گورنروں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ستر جوڑوں کی صلح کا معاہدہ توڑ دیا لیکن ابوبکر (رض) نے اس معاہدہ کو جوں کا توں رہنے دیا۔ حتیٰ کہ ابوبکر (رض) بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے بعد پھر یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور صدقہ کے طور پر قائم رہا۔ (رواہ ابوداؤد والطبرانی والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ابی داؤد میں ذکر کی گئی ہے دیکھئے ٦٥٤۔