36797- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها مسرورا يبرق وجهه قام: ألم تسمعني ما قال محرز المدلجي ورأى أسامة وزيدا نائمين في ثوب واحد أو في قطيفة قد غطيا رؤسهما وبدت أقدامهما فقال: إن هذه الأقدام بعضها من بعض. "عب، خ، م، د، ت، ن، هـ".
٣٦٧٩٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس خوش خوش تشریف لائے آپ کا چہرہ اقدس مسرت سے کھلا ہوا دکھائی دے رہا تھا آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا : کیا تم نے نہیں سنا محرز مدلجی کیا کہتا ہے ؟ چنانچہ محرز نے اسامہ اور زید کو سوئے ہوئے دیکھا ان دونوں نے ایک ہی کپڑے سے۔ یا فرمایا : ایک ہی چادر سے سر ڈھانپ رکھے تھے جب کہ ان کے پاؤں ننگے تھے اور ظاہری نظر آتے تھے محرز بولا : یہ پاؤں ایک دوسرے سے کتنے مشابہ ہیں۔ (رواہ عبد الرزاق والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ)