36802- "أيضا" كنت جالسا إذ جاء علي والعباس يستأذنان فقالا: يا أسامة! استأذن لنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! علي والعباس يستأذنان، فقال: أتدري ما جاء بهما؟ قلت: لا، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لكني أدري، ائذن لهما، فدخلا فقالا: يا رسول الله! جئناك نسألك أي أهلك أحب إليك؟ قال: فاطمة بنت محمد، قالا: ما جئناك نسألك عن أهلك، قال: فأحب الناس إلي من أنعم الله عليه وأنعمت عليه أسامة بن زيد، قالا: ثم من؟ قال: ثم علي بن أبي طالب، فقال العباس: يا رسول الله! جعلت عمك آخرهم، قال: إن عليا سبقك بالهجرة. "ط، ت": حسن صحيح1 والروياني والبغوي، "طب، ك، ص".
٣٦٨٠٢۔۔۔ اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) آئے اور کہنے لگے : اے اسامہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لو۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! علی اور عباس (رض) اجازت طلب کر رہے ہیں ارشاد فرمایا : جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : نہیں فرمایا : لیکن میں جانتا ہوں اچھا انھیں اجازت دو وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ سے پوچھیں کہ آپ کو اپنے خاندان میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے آپ نے فرمایا : فاطمہ بنت محمد عرض کیا : ہم آپ سے آپ کے گھر والوں کے متعلق پوچھتے ہیں آپ نے فرمایا : مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ وہ شخص محبوب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے اور میں نے انعام کیا ہے یعنی اسامہ بن زید عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا : علی بن ابی طالب حضرت عباس (رض) بولے : یا رسول اللہ ! آپنے اپنے چچا کو سب کے آخر میں کردیا۔ اس پر ارشاد فرمایا : چونکہ علی نے آپ سے پہلے ہجرت کی ہے (رواہ الطبرانی والتبر فدی وقال حسن صحیح والرویانی والبغوی والطبرانی والحاکم و سعید بن المنصور
کلام : ۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٨٠٠ والضعیفۃ ١٨٤٤۔