36810 (مسنده) عن يزيد بن هارون عن المسلم بن سعيد عن حبيب بن عبد الرحمن عن أبيه عن جده قال : خرج النبي صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته فأتيته أنا ورجل قبل أن نسلم فقلنا : إنا نستحيي أن يشهد قومنا مشهدا ولا نشهد ، فقال : أسلمتما ؟ قلنا : لا ، قال : فانا لا نستعين بالمشركين على المشركين ، فأسلمنا وشهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتلت رجلا وضربني الرجل ضربة فتزوجت ابنته فكانت تقول : لا عدمت رجلا وشحك هذا الوشاح ! فأقول : لا عدمت رجلا عجل أباك إلى النار (ك ، وقال : حبيب ابن عبد الرحمن بن الاسود بن حارثة جده صحابي معروف ، قال في الاصابة : كذا قال وهو وهم وهذا الحديث رواه حم عن يزيد بن هارون فوقع عنده عن حبيب بن عبد الرحمن بن حبيب ، وأورده ابن عبد البر في ترجمة حبيب ابن يساف وهو الصواب) أسود بن خطامه الكناني اخو زهير بن خطامة رضي الله عنه
٣٦٨١٠۔۔۔ ” مسند اسود بن حارثہ “ یزید بن ہارون مسلم بن سعید حبیب بن عبد الرحمن اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ پر تشریف لے گئے چنانچہ میں اور ایک اور شخص اسلام لانے سے قبل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا : یقیناً ہمیں حیاء آتی ہے کہ ہماری قوم جنگ میں شریک ہو اور ہم اس میں حصہ نہ لیں آپ نے فرمایا ! کیا تم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ ہم نے عرض کیا : جی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم مشرکین کے خلاف مشرکین کی مدد نہیں لینا چاہتے، چنانچہ ہم نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے میں نے ایک شخص کو قتل کیا جب کہ اس نے مجھ پر بھی ایک ضرب لگائی بعد میں میں نے اسی شخص کی بیٹی سے شادی کرلی وہ کہا کرتی تھی : میں ایک شخص کو معدوم نہیں سمجھتی جس نے تمہیں یہ ہار پہنایا ہے۔ (یعنی زخم لگایا ہے) میں آگے سے جواب دیتا تو ایسے شخص کو بھی معدوم نہیں سمجھے گی جس نے تیرے باپ کو واصل جہنم کیا۔ (رواہ الحاکم وقال : حبیب بن عبد الرحمن بن الاسود بن حارثۃ جدہ صحابی معروف قال فی الاصابۃ : کذا قال وھو وھم وھذا الحدیث رواہ احمد بن یزید بن ہارون فوقع عندہ عن حبیب بن عبد الرحمن بن حبیب واوردہ ابن عبد البر فی ترجمۃ شعیب ابن یساف وھو