hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36833

.

كنز العمال

36833
Kanz al-Ummal
36823- عن ابن عباس وغيره قال: قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد بني عبد بن عدي فيهم الحارث بن وهبان وعويمر بن الأخرم وحبيب وربيعة ابنا ملة ومعهم رهط من قومهم فقالوا: يا محمد! نحن أهل الحرم وساكنه وأعز من به ونحن لا نريد قتالك، ولو قاتلك غير قريش قاتلنا معك ولكنا لا نقاتل قريشا وإنا لنحبك ومن أنت منه وقد أتيناك فإن أصبت منا أحد خطأ فعليك ديته، وإن أصبنا أحدا من أصحابك فليس علينا ولا عليك، وأسلموا؛ فقال عويمر بن الأخرم: دعوني آخذ عليه، قالوا: لا، محمد لا يغدر ولا يريد أن يغدر به، فقال حبيب وربيعة يا رسول الله! إن أسيد بن أبي إياس هو الذي هرب وتبرأنا إليك منه وقد نال منك، فأباح رسول الله صلى الله عليه وسلم دمه، وبلغ أسيدا قولهما لرسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فأتى الطائف فأقام به وقال لربيعة وحبيب: فأما أهلكن وتعيش بعدي ... فإنهما عدو كاشحان فلما كان عام الفتح كان أسيد بن أبي إياس فيمن أهدر دمه، فخرج سارية بن زنيم إلى الطائف فقال له أسيد: ما وراءك؟ قال: أظهر الله نبيه ونصره على عدوه فاخرج يا ابن أخي إليه فإنه لا يقتل من أتاه، فحمل أسيد امرأته وخرج وهي حامل تنتظر وأقبل فألقت غلاما عند قرن الثعالب، وأتى أسيد أهله فلبس قميصا واعتم ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسارية قائم بالسيف عند رأسه يحرسه، فأقبل أسيد حتى جلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! أنذرت دم أسيد؟ قال: نعم، قال: أفتقبل منه إن جاءك مؤمنا؟ قال: نعم، فوضع يده في يد النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد هذه يدي في يدك أشهد أنك رسول الله صلى الله عليه وسلم وأن لا إله إلا الله فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصرخ أن أسيد بن أبي إياس قد آمن وقد أمنه رسول الله صلى الله عليه وسلم! ومسح رسول الله صلى الله عليه وسلم وجهه وألقى يده على صدره فيقال: إن أسيدا كان يدخل البيت المظلم فيضيء، وقال أسيد بن أبي إياس: أأنت الذي تهدي معدا لدينها. ... بل الله يهديها وقال لك أشهد فما حملت من ناقة فوق كورها. ... أبر وأوفى ذمة من محمد وأكسى لبرد الحال قبل ابتذاله. ... وأعطى لرأس السابق المتجرد تعلم رسول الله أنك قادر. ... على كل حي متهمين ومنجد تعلم بأن الراكب ركب عويمر. ... هم الكاذبون المخلفو كل موعد أنبوا رسول الله أن قد هجوته. ... فلا رفعت سوطي إلى إذا يدي سوى أنني قد قلت ويلم فتية. ... أصيبوا بنحس لا بطائر أسعد أصابهم من لم يكن لدمائهم. ... كفاء فقرت حسرتي وتبلدي ذؤيب وكلثوم وسلمى تتابعوا. ... جميعا فإن لا تدمع العين أكمد فلما أنشده: أأنت الذي تهدي معدا لدينها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بل الله يهديها، فقال الشاعر: بل الله يهديها وقال لك أشهد."المدائني، كر".
٣٦٨٢٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بنی عبد بن عدی کا وفد آیا، وفد میں حارث بن وھبان وعمویمربن احرم حبیب ربیعہ اور ایک جماعت شامل تھی اہل وفد نے کہا : یا محمد ! ہم اہل حرم ہیں اور حرم کے رہنے والے ہیں ہم حرم کی وجہ سے عزت مند ہیں ہم آپ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے اگر قریش کے علاوہ کسی اور قبیلے نے آپ سے جنگ کی ہم آپ کا ساتھ دیتے ہوئے لڑیں گے لیکن ہم قریش کے مقابلہ میں نہیں لڑیں گے ہم آپ سے اور آپ کے قبیلہ سے محبت کرتے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوچکے ہیں اگر آپ نے ہم میں سے کسی کو خطاء قتل کردیا آپ پر اس کی دیت واجب ہوگی لیکن اگر ہم نے آپ کے کسی ساتھی کو خطاء قتل کردیا ہمارے اوپر دیت نہیں ہوگی۔ پھر اہل وفد نے اسلام قبول کرلیا۔ عویمر بن اضرم نے کہا : مجھے چھوڑ میں اس سے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) پختہ عہد لے لوں اس کے ساتھیوں نے کہا : نہیں محمد غدر نہیں کرتا اور نہ ہی غدر کروانے کی اس کی خواہش ہے حبیب اور ربیعہ نے کہا : یا رسول اللہ ! سید بن ابی ایاس وہی ہے جو بھاگ گیا تھا ہم اس کی طرف سے آپ کے سامنے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ نیز اس نے آپ کی گستاخی بھی کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا خون مباح قرار دیا اسید (رض) کو جب ان دونوں کی بات پہنچی تو انھوں نے طائف میں اقامت اختیار کرلی ربیعہ اور حبیب کے لیے یہ شعر کہا :
فاما اھلکن وتعیش بعدی فانھما عدو کا شحان
اگر میں ہلاک ہوجاؤں تم میرے بعد زندہ رہو گے حالانکہ وہ دونوں دشمن پوشیدہ رکھنے والے دشمن ہیں چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اسید بن ابی ایاس ان لوگوں میں سے تھے جنہیں مباح الدم قرار دیا گیا تھا، اس اثناء میں ساریہ بن زنیم طائف گئے اسید نے ان سے پوچھا : تم اپنے پیچھے کیسے حالات چھوڑ کر آئے ہو ؟ ساریہ (رض) نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ عطا فرمایا ہے۔ اے بھتیجے اللہ کے نبی کے قدموں میں قربان چونکہ جو شخص ان کے پاس حاضر ہوجاتا ہے وہ اسے قتل نہیں کرتے چنانچہ اسید نے اپنی حاملہ بیوی اٹھائی جو وضع حمل کے انتظار میں تھی اور چل پڑے۔ چنانچہ بیوی نے مقام قرن ثعالب میں بچہ جنم دیا اسید اپنے گھر والوں کے پاس آئے ایک قمیص پہنی عمامہ باندھا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ ساریہ اسید (رض) کے سر پر تلوار لیے ان کا پہرہ دے رہا تھا اسید (رض) چل پڑے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : اے محمد کیا تم نے اسید کو مباح الدم قرار دیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ عرض کیا : اگر وہ مومن بن کر حاضر ہو آپ اس کے ایمان کو قبول فرمائیں گے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ چنانچہ اسید (رض) نے اپنا ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس میں دے دیا اور عرض کیا : اے محمد ! میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اعلان کرو اسید بن ابی ایاس ایمان لے آیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے امن دے دیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسید (رض) نے چہرے پر ہاتھ پھرا اور اس کے ہاتھ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اسید (رض) تاریک گھر میں داخل ہوتے وہ روشنی سے چمک اٹھتا، اسید بن ابی ایاس (رض) نے یہ اشعار کہے :
انت الذی تھدی معد الدینھا بل اللہ یھدیھا وقال لک اشھد
کیا آپ ہی نے قوم معد کو ان کے اصلی دین کی طرف راہنمائی کی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی ہے
اور آپ کے سامنے انھوں نے گواہی دی ہے۔
فما حملت من ناقۃ فوق کو رھا ابر واوفی ذمۃ من محمد
کوئی اونٹنی بھی اپنے پالان پر بوجھ ہی اٹھاتی اس قدر کہ جتنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔
وا کسی لبر دالحال قبل ابتذالہ واعطی لراس السابق المتجرد
سردی کے حال کے موافق اس کے آنے سے قبل کپڑا پہنایا اور پہلے والے ننگے سر کو عطا کیا۔
تعلیم رسول اللہ انک قادر علی کل حی متھمین ومنجد
یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ آپ ہر زندہ غمزدہ و خوش پر قادر ہیں۔
تعلیم بان الرکب رکب عویمر ھم الکاذبون المخلفو کل موعد
آپ جانتے ہیں کہ یہ سواء عویمر کے سوار ہیں وہ جھوٹے ہیں اور ہر وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انبوار رسول اللہ ان قدھجوتہ فلا ارفعت سوطی الی اذا یدی
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کر دو کہ میں نے ان کی ھجو کی ہے سو میرے ہاتھ کی طرف کوڑا نہیں اٹھ سکتا۔
سوی انی قد قلت ویلم فتیۃ اصیبوا بنحس لایطائرا سعد
البتہ میں نے اتنی بات کہی کہ چند نوجوانوں کے لیے ہلاکت ہے جو نحوست کو پہنچ چکے ہیں اور سعادت ان کے مقدر میں ہیں
اصابھم من لم یکن لدمانھم کفاء فقرت حسرتی وتبلدی
مصیبت انھیں پہنچی ہے جس کے خون کا کوئی ہمسر نہیں میری حسرت اور کند خاطر ٹھنڈی ہوئی
ذوایب و کلکثوم وسلمی تتابعوا جمیعا فان لاتد مع العین اکمد
وہ ذؤیب کلثوم اور سلمی ایک کے بعد دوسرا ہیں سو بدلے رنگ کی آنکھ سے آنسو نہیں بہتا۔
جب اسد (رض) نے پہلے شعر میں کہا : انت الذی تھدی معد الدینھا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا مصرح کہا : بل اللہ یدیھا
شاعر نے بھی کہا : بل اللہ یھدیھا وقال لک اشھد۔ (رواہ المداثنی وابن عساکر)