36829- "مسند أنس" قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا يومئذ ابن ثمان سنين فذهبت بي أمي إليه فقالت: يا رسول الله! إن رجال الأنصار ونساءهم قد أتحفوك غيري، وإني لم أجد ما أتحفك به إلا ابني هذا فتقبله مني يخدمك ما بدا لك! فخدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين لم يضربني قط ولم يسبني ولم يعبس في وجهي. "كر".
٣٦٨٢٩۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے میں اس وقت آٹھ سال کا تھا میری والدی مجھے لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ میرے علاوہ انصار کے مرد اور عورتیں آپ کو تحائف پیش کرتے ہیں جب کہ میرے پاس آپ کو تحفہ دینے کے لیے کوئی چیز نہیں سوائے میرے اس بیٹے کے آپ اسے میری طرف سے قبول فرمائیں یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا چنانچہ میں نے دس سال تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی آپ نے مجھے کبھی نہیں مارا مجھے گالی نہیں دی اور نہ ہی آپ کبھی چیں بہ جبیں ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)