36835 (أيضا) دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على أم سليم فقالت : يا رسول الله ! إن لي خويصة ، قال : وما هي يا أم سليم ؟ قالت : خادمك أنس ، فدعا لي بخير الدنيا والآخرة وقال : اللهم ارزقه مالا وولدا وبارك له فيه ! فاني أكثر الانصار ولدا فأخبرتني ابنتي أمينة أنها قد دفنت من صلبي إلى مدقم الحجاج البصرة بعضا وعشرين ومائة (الحارث وأبو نعيم).
٣٦٨٣٥۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلیم (رض) کے پاس تشریف لائے ام سلیم نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک خاص چیز ہے آپ نے فرمایا : اے ام سلیم وہ کیا چیز ہے ؟ عرض کیا : آپ کا خادم انس، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی، اور ارشاد فرمایا : یا اللہ، اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس میں برکت بھی عطا فرما۔ چنانچہ انصار میں میری اولاد سب سے زیادہ ہوئی ہے میری بیٹی امینہ نے مجھے بتایا کہ بصرہ میں حجاج کے آنے تک ایک سو بیس سے زائد میری صلبی اولاد فنا ہوچکی ہے۔ (رواہ الحارث وابو نعیم)