hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36859

.

كنز العمال

36859
Kanz al-Ummal
36849- عن محمود بن لبيد أخي بني عبد الأشهل قال: لما قدم أبو الحيسر أنس بن رافع مكة ومعه فتية من بني عبد الأشهل فيهم إياس بن معاذ يلتمسون الحلف من قريش على قومهم من الخزرج سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بهم فأتاهم فجلس إليهم فقال لهم: هل لكم إلى خير مما جئتم له؟ فقالوا: وما ذاك؟ قال: أنا رسول الله بعثني الله إلى العباد أدعوهم إلى الله أن يعبدوا الله ولا يشركوا به شيئا ونزل علي الكتاب! ثم ذكر الإسلام وتلا عليهم القرآن، فقال إياس بن
٣٦٨٤٩۔۔۔ بنی عبد الاشھل کے بھائی محمود بن لبید (رض) کہتے ہیں جب ابو حیسر انس بن رافع مکہ آیا اس کے ساتھ بنی عبد الاشھل کے چند نوجوان بھی تھے ان میں ایک ایاس بن معاذ (رض) بھی تھے ، یہ لوگ قریش کو اپنی قوم خزرج کے خلاف حلیف بنانا چاہتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی خبر ہوئی آپ ان لوگوں کے پاس آئے اور ان کے ساتھ مل بیٹھے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کی دعوت نہ دوں جو تمہارے حلف بندی سے بدرجہا افضل ہے ؟ وہ بولے : وہ کیا چیز ہے ارشاد فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاؤں وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے پھر آپ نے ان لوگوں سے اسلام کے محاسن ذکر کیے اور قرآن پڑھ کر سنایا ایاس بن معاذ (رض) بولے : (یہ اس وقت نوجوان لڑکے تھے) بخدا جس کام کے لیے تم آئے ہو یہ چیز اس سے بدرجہا افضل ہے ابو چیر اس بن رافع نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھائیں اور ایاس بن معاذ (رض) کے منہ پر ماریں اور کہا تم ہمیں چھوڑو میری عمر کی قسم ہم تو کسی اور مقصد کے لیے آئے ہیں اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ لوگ تھی مدینہ واپس چلے گئے، چنانچہ بعاث کی لڑائی اوس اور خزرج کے درمیان ہوئی تھی اس کے بعد تھوڑی مدت میں ایاس بن معاذ (رض) وفات پاگئے محمود بن لبید کہتے ہیں : میری قوم کے جو لوگ ایاس بن معاذ (رض) کے پاس بوقت وفات موجود تھے انھوں نے مجھے بتایا ہے کہ ہم ایاس بن معاذ کو لگاتار اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تکبیر کہتے اور تسبیح کرتے سنتے رہے ہیں حتیٰ کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگیا ان لوگوں نے شک نہیں کیا کہ وہ مسلمان ہی مرے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس کرنے اسلام کی سمجھ بوجھ اپنے اندر پیدا کرلی تھی۔ (رواہ ابو نعیم)