hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36870

.

كنز العمال

36870
Kanz al-Ummal
36860- "مسنده" عن عمران بن صاعد بن العلاء بن بشر بن معاوية البكائي حدثني أبي عن أبيه عن بشر بن معاوية أنه قدم مع أبيه معاوية بن ثور وافدين على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معاوية بن ثور قال لابنه بشر يوم قدم وله ذؤابة : إذا جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل ثلاث كلمات لا تنقص منهن ولا تزد عليهن ، قل : السلام عليك يا رسول الله ! أتيتك يا رسول الله لاسلم عليك ونسلم إليك وتدعو لي بالبركة ، قال بشر : ففعلتهن ، فمسح رسول الله صلى الله عليه وسلم على رأسي ودعا لي بالبركة. وكانت في وجهه مسحة النبي صلى الله عليه وسلم كأنها غرة فكان لا يمسح شيئا إلا برأ ، وكتب النبي صلى الله عليه وسلم لمعاوية بن ثور كتابا ووهب له من صدقة عامه ثنتي عشرة مسنة معونة له ، فلما خرج من عنده قال : أنا هامة اليوم اليوم أو غدا ولي مال كثير وإنما لي ابنان ، فرجع إليه فقال : يا رسول الله ! خذها مني فضعها حيث ترى من مكائدة العدو فاني موسر كثير المال ، فقال : أصبت يا معاوية ! فقبلها منه (خ في تاريخه والبغوى وقال : عمران مجهول ، وابن منده وأبو نعيم)
٣٦٨٦٠۔۔۔ عمران بن صاعد بن عداء بن بشر بن معاویہ بکائی اپنے والد سے وہ اپنے والد بشر بن معاویہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت بشر بن معاویہ بن ثور (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے ان سے تین باتیں حاضر ہوئے معاویہ بن ثور (رض) نے اپنے بیٹے بشر (رض) سے کہہ رکھا تھا کہ جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچو ان سے تین باتیں کہنی ہیں اور ان میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کرنی کہنا السلام علیک یا رسول اللہ ! ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ کو سلام کریں اور ہم اسلام کا اقرار کریں اور آپ میرے لیے برکت کی دعا کریں۔ بشر (رض) کہتے ہیں میں نے یہ سب کچھ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سرپردست شفقت پھیرا اور میرے لیے دعائے برکت کی بشر (رض) کے چہرے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسخ کا نشان تھا یوں کہتا تھا جیسا کہ وہ غرہ (چمکدار چیز) ہے اس پر جس چیز کو بھی مسخ کیا جاتا وہ چمک اٹھتی تھی بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاویہ بن ثور (رض) کے لیے خط لکھا اور انھیں صدقہ میں ہے بارہ عدد دو سالہ اونٹ کے بچھڑے دئیے یہ ان کے لیے بطور معونت تھے جب حضرت معاویہ بن ثور (رض) آپ کے پاس سے اٹھ کر چلنے لگے عرض کیا : میں آج یا کل کا مہمان ہوں میرے پاس کثیر مال ہے اور میرے صرف دو پٹھے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف واپس پلٹے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ مال آپ میری طرف سے قبول فرمائیں اور دشمن کی مکر بازیوں کے خلاف جہاں بہتر سمجھیں صرف کردیں میں مالدار ہوں اور میرے پاس بہت مال ہے آپ نے فرمایا : اے معاویہ تم درست و صواب رائے رکھتے ہو آپ نے مال واپس قبول فرما لیا۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ والبغوی وقال عمر ان محمول ورواہ ابن مندہ وابو نعیم)