36862- "مسنده" عن بشير بن عقربة قال: لما قتل أبي عقربة يوم أحد أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي فقال: يا حبيب! ما يبكيك؟ أما ترضى أن أكون أنا أباك وعائشة أمك؟ قلت: بلى يا رسول الله بأبي أنت وأمي! فمسح على رأسي فكان أثر يده من رأسي أسود وسائره أبيض، وكانت لي رتة1 فتفل فيها فانحلت، وقال لي: ما اسمك؟ قلت: بحير، قال: بل أنت بشير. "خ في تاريخه وابن منده
٣٦٨٦٢۔۔۔ بشیر بن عقربہ (رض) کی روایت ہے کہ میرے والد عقربہ (رض) غزوہ احد میں شہید کر دئیے گئے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں رو رہا تھا آپ نے فرمایا : اے حبیب ! کیوں رو رہے ہوں کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کر میں تمہارا والد ہوں اور عائشہ تمہاری ماں ہے میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میرے باپ آپ پر قربان جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا آپ کے یاتھ پھیرنے کا نشان سیاہ تھا جب کہ باقی سارا جسم سفید تھا میری زبان میں لکنت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے منہ میں تھوکا جس سے لکنت جاتی رہی مجھ سے میرا نام پوچھا : میں نے کہا : میرا نام بحیر ہے فرمایا : بلکہ تمہارا نام بشیر ہے۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن مندہ)