hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36875

.

كنز العمال

36875
Kanz al-Ummal
36865- عن بشير بن الخصاصية قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبايعه فقلت: علام تبايعني؟ يا رسول الله! فمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فقال: تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وتصلي الصلوات الخمس لوقتها، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان، وتحج البيت وتجاهد في سبيل الله، قلت: يا رسول الله! كلا نطيق إلا اثنتين فلا أطيقهما: الزكاة، والله مالي إلا عشر ذود هن رسل1 أهلي وحمولتهن، وأما الجهاد فإني رجل جبان ويزعمون أنه من ولى فقد باء بغضب من الله وأخاف إن حضر القتال أن أخشع بنفسي فأفر فأبوء بغضب من الله، فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ثم حركها ثم قال: يا بشير! لا صدقة ولا جهاد فبم إذن تدخل الجنة؟ قلت: يا رسول الله! ابسط يدك أبايعك، فبسط يده فبايعته عليهن كلهن. "الحسن بن سفيان، "طس" وأبو نعيم، ك ق، كر".
٣٦٨٦٥۔۔۔ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کس شرائط پر بیعت لیتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا : یہ کہ تم گواہی دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں یہ کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے یہ کہ ہر وقت نماز پنجگانہ ادا کرو فرض زکوۃ ادا کرو رمضان کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بجز دو کے سب ارکان کی طاقت رکھتا ہوں میں زکوۃ نہیں دے سکتا چونکہ بخدا میرے پاس دس اونٹ بکریاں ہیں جو میرے گھر والوں کی ضرورت ہیں اور بوجھ لادنے کے کام آتے ہیں میں جہاد کی طاقت نہیں رکھتا چونکہ میں بزدل شخص ہوں جب کہ لوگوں کا کہنا ہے جو میدان جنگ سے بھاگ جائے وہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کا مستحق ہوجاتا ہے میں خوفزدہ ہوں کہ اگر جنگ چھڑ جائے مجھے اپنی جان کے لالے پڑجائیں زور میں میدان جنگ سے بھاگ جاؤں یوں میں اللہ تعالیٰ کے غضب و غصہ کا مستحق ہوجاؤں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مند کرلیا پھر ہاتھ کو حرکت دی اور فرمایا : اے بشیر ! جب نہ صدقہ ہو نہ ہی جہاد ہو پھر تم جنت میں کیسے داخل ہوگے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہاتھ بڑھائیں میں بیعت کرتا ہوں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے تمام ارکان کو بجالانے پر بیعت کرلی۔ (رواہ الحسن بن سفیان والطبرانی فی الاوسط و ابونعیم والحاکم والبیہقی وابن عساکر)