36876- عن عبد الله بن محمد بن عمار بن سعد وعمار بن حفص بن عمر بن سعد وعمر بن حفص بن عمر بن سعد عن آبائهم عن أجدادهم أنهم أخبروهم أن النجاشي الحبشي بعث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاث عنزات1 فأمسك النبي صلى الله عليه وسلم واحدة لنفسه وأعطى علي بن أبي طالب واحدة وأعطى عمر بن الخطاب واحدة، فكان بلال يمشي بتلك العنزة التي أمسكها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم في العيدين يوم الفطر ويوم الأضحى حتى يأتي المصلى فيركزها بين يديه فيصلي إليها، ثم كان يمشي بها بين يدي أبي بكر بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كذلك، ثم كان سعد القرظ يمشي بها بين يدي عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان في العيدين فيركزها بين أيديهما ويصليان إليها، ولما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء بلال إلى أبي بكر الصديق فقال له: يا خليفة رسول الله! إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول: أفضل عمل المؤمن الجهاد في سبيل الله، فقال أبو بكر: فما تشاء يا بلال؟ قال: أردت أن أرابط في سبيل الله حتى أموت، فقال أبو بكر: أنشدك الله يا بلال وحرمتي وحقي فقد كبرت وضعفت واقترب أجلي، فأقام بلال مع أبي بكر حتى توفي أبو بكر، فلما توفي أبو بكر جاء بلال إلى عمر بن الخطاب فقال له كما قال لأبي بكر، فرد عليه عمر كما رد عليه أبو بكر، فأبى بلال عليه، فقال عمر: فإلى من ترى أن أجعل النداء؟ فقال: إلى سعد فإنه قد أذن لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعا عمر سعدا فجعل الأذان إليه وإلي عقبه من بعده."ابن سعد".
٣٦٨٧٦۔۔۔ عبداللہ بن محمد بن عمار بن سعد و عمار بن حفص بن عمر بن سعد و عمر بن حفص بن عمر بن سعد اپنے آباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے خبر کی ہے کہ نجاشی حبشی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف تین عصا۔ (لاٹھیاں) بھیجیں ان میں سے ایک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے رکھ لی ایک حضرت علی (رض) کو دی اور ایک حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دی جو لاٹھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے رکھی تھی بلال (رض) اسے لے کر عیدین کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے آگے چلتے اور عیدگاہ میں آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نصب کردیتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بد بلال (رض) اسی طرح ابوبکر (رض) کے آگے چلتے پھر ان کے بعد حضرت سعد قرظ عیدین کے موقع پر عمر بن خطاب (رض) اور حضرت عثمان بن عفان (رض) کے آگے چلے اور عیدگاہ میں اسے نصب کردیتے وہ دونوں بھی اسی کی طرف نماز پڑھتے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے تو بلال (رض) حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ مومن کا افضل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے بلال تم کیا چاہتے ہو بلال (رض) نے عر ض کیا : میں فی سبیل اللہ جہاد کرنا چاہتا ہوں حتیٰ کہ مجھے موت آجائے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے بلال (رض) میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اپنے احترام اور حق کا واسطہ دیتا ہوں کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں جسمانی لحاظ سے کمزور ہوگیا ہوں اور میری وفات کا وقت بھی قریب ہوچکا ہے۔ (لہٰذا میرے پاس رہو) بلال (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس مقیم رہے حتیٰ کہ ابوبکر (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے ابوبکر (رض) کے بعد حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے بلال (رض) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہی مطالبہ رکھا جو ابوبکر (رض) کے سامنے رکھا تھا حضرت عمر (رض) نے بھی ابوبکر (رض) کی طرف بلال (رض) کا مطالبہ رد کردیا لیکن بلال (رض) نہ مانے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم اپنی جگہ کسے موذن مقرر کرتے ہو ؟ عرض کیا میں سعد کو موذن مقرر کرتا ہوں چونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اذان دیتے رہے ہیں حضرت عمر (رض) نے سعد (رض) کو بلایا اور انھیں اذان کی ذمہ داری سونپی اور ان کے بعد انہی کی اولاد کو یہ فریضہ نبھانے کی تاکید کی۔ (رواہ ابن سعد)