36896- عن الحسن الفردوسي قال: لقي عمر أبا ذر فأخذ بيده فعصرها، فقال أبو ذر: دع يدي يا قفل الفتنة! فعرف عمر أن لكلمته أصلا فقال: يا أبا ذر! ما قفل الفتنة؟ قال: جئت يوما ونحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فكرهت أن تتخطى رقاب الناس فجلست في أدبارهم فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصيبكم فتنة ما دام هذا فيكم. "كر".
٣٦٨٩٦۔۔۔ حسن فردوسی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) ابو زر غفاری (رض) سے ملے عمر (رض) نے ان کا ہاتھ پکڑ کر دبا لیا۔ ابو ذر (رض) بولے : اے فتنے کے تالے میرا ہاتھ چھوڑ دو حضرت عمر (رض) پہچان گئے کہ ابو ذر کی اس بات کی ضرور کوئی حقیقت ہے لہٰذا پوچھا اے ابو ذر فتنے کے تالے سے کیا مراد ہے ابو ذر (رض) نے کہا : ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپ بھی ادھر آنکلے اور آپ نے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا ناپسند سمجھا لہٰذا آپ وہیں لوگوں کے پیچھے پڑگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا جب تک یہ شخص تمہارے درمیان موجود ہے اس وقت تک تم کسی فتنہ کا شکار نہیں بنو گے۔ (رواہ ابن عساکر)