36899- عن أبي جمرة أن ابن عباس أخبرهم عن بدء إسلام أبي ذر قال: بلغه أن رجلا خرج بمكة يزعم أنه نبي فبعث أخاه فقال: انطلق إلى مكة حتى تأتيني بخبره - وذكر قصة إسلامه أنه انطلق حتى أتى مكة معه شنة1 فيها ماؤه وزاده فدخل المسجد ولم يسأل أحدا عن شيء ولم يلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان في ناحية المسجد حتى أمسى فمر به علي بن أبي طالب فقال: أما آن للرجل أن يعرف منزله، فمضى معه على أثره حتى دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخبر خبره ثم أسلم فقال: يا رسول الله! مرني بما شئت، قال: ارجع إلى أهلك حتى يأتينك خبري، فقال: والله ما كنت لأرجع حتى أصرخ بالإسلام! فخرج إلى المسجد فصاح بأعلى صوته: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، فقال المشركونصبأ الرجل صبأ الرجل! ثم قاموا إليه فضربوه حتى سقط."أبو نعيم".
٣٦٨٩٩۔۔۔ ابو جمرہ کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے انھیں ابو ذر غفاری (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا ہے ابو ذر (رض) کو خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ابو ذر (رض) نے اپنا بھائی بھیجا کہ میرے پاس اس شخص کی خبر لاؤ۔ پھر ان کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ابو ذر (رض) مکہ پہنچے ان کے پاس ایک مشکیز ہ تھا جس میں زاردارہ اور پانی تھا مسجد میں داخل ہوئے اور کسی سے کچھ نہ پوچھا اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے مسجد کے ایک کونہ میں جا بیٹھے اور شام تک بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد حضرت علی بن ابی طالب (رض) ابو ذر (رض) کے پاس سے گزرے اور کہا : کیا ابھی تک وقت نہیں آیا کہ یہ شخص اپنی منزل کی پہچان کرسکے ابو ذر (رض) اٹھ کر علی (رض) کے پیچھے ہو لیے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آن پہنچے ابو ذر (رض) نے اپان واقعہ سنایا اور اسلام لے آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے آپ جو چاہیں حکم دیں حکم ہوا : اپنے اہل خانہ کے پاس واپس لوٹ جاؤ حتیٰ کہ تمہارے پاس میری کوئی خبر پہنچے ابو ذر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک کہ سرعام اسلام کا اعلان نہ کردوں۔ چنانچہ ابو ذر (رض) مسجد میں چلے گئے اور بآواز بلند کہا : اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ مشرکین کہنے لگے : اس شخص نے اپنا آبائی دین ترک کردیا پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو ذر کو مارنے لگے، حتیٰ کہ ابو ذر ادھ موئے ہو کر گرپڑے۔ (رواہ ابو نعیم)