36913- عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: لما قدم جعفر من أرض الحبشة لقي عمر بن الخطاب أسماء بنت عميس فقال لها: سبقناكم بالهجرة ونحن أفضل منكم، قالت: لا أرجع حتى آتي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدخلت عليه فقالت: يا رسول الله! لقيت عمر فزعم أنه أفضل منا وأنهم سبقونا بالهجرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: بل أنتم هاجرتم مرتين. قال إسماعيل: فحدثني سعيد بن أبي بردة قال قالت يومئذ لعمر: ما هو كذلك، كنا مطرودين بأرض البعداء والبغضاء وأنتم عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يعظ جاهلكم ويطعم جائعكم. "ش".
٣٦٩١٣۔۔۔ اسماعیل بن ابی خالد شعبی کی روایت ہے کہ جب جعفر (رض) سر زمین حبشہ سے واپس لوٹے تو حضرت عمر (رض) کی ملاقات اسماء بنت عمیس (رض) سے ہوئی عمر (رض) نے اسماء (رض) سے کہا : ہم ہجرت میں تمہارے اوپر سبقت لے گئے ہیں لہٰذا ہم تم سے افضل ہیں اسماء (رض) بولیں میں واپس (گھر) نہیں جاؤں گی حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ اسماء (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں عمر (رض) سے ملی وہ کہتے ہیں ہم تم سے افضل ہیں چونکہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے اسماعیل کہتے ہیں : سعد بن ابی بردہ نے مجھے حدیث سنائی کہ اسماء (رض) نے اسی دن عمر (رض) سے کہا : یہ بات اس طرح نہیں ہیں ہم تو دور اور اجنبی سرزمین میں پھینکے گئے تھے جب کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے اور تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)