hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36929

.

كنز العمال

36929
Kanz al-Ummal
36919- عن أبي الطائفة أحمد بن عيسى بن عبد الله العلوي حدثني أبي عن أبيه عن جده عن أبيه عن علي قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في مسير فساق بأصحاب الركاب فجعل يقول: جندب وما جندب؟ والأقطع الخير زيد، فجعل يعيد ذلك ليلته، فقال له القوم: يا رسول الله! ما زال هذا قولك منذ الليلة! قال: رجلان من أمتي يقال لأحدهما جندب يضرب ضربة يفرق بين الحق والباطل، والآخر يقال له زيد يسبقه عضو من أعضائه إلى الجنة ثم يتبعه سائر جسده، قال: أما جندب فإنه أتي بساحر عند الوليد بن عقبة وهو يريهم أنه يسحر فضربه بالسيف فقتله، وأما زيد فقطعت يده في بعض مشاهد المسلمين ثم شهد مع علي فقتل زيد يوم الجمل مع علي. "كر"
٣٦٩١٩۔۔۔ ابو طائف احمد بن عیسیٰ بن عبداللہ علاء اپنے آباؤ و اجداد کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرات کہتے ہیں : ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، آپ نے سواروں کی جماعت کے ساتھ کوچ کہنا اور آپ نے کہنا شروع کردیا۔ جندب، اور جندب کہا ؟ اور ہاتھ کٹا زید جو کہ افضل ہے، آپ یہ کلمات پوری رات دہراتے رہے۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ یہ بات پوری رات دہراتے رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : میری امت کے دو شخص ہیں ان میں سے ایک کو جندب کہا جاتا ہے وہ تلوار کے ایک ہی وار سے حق و باطل میں فرق کردیتا ہے اور دوسرے کو ” زید “ کہا جاتا ہے اس اعضاء میں سے ایک وضو جنت کی طرف سبقت کررہا ہے اور اس کے پیچھے اس کا پورا جسم جنت میں داخل ہوجاتا ہے رہی بات جندب کی سو وہ ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادو گر لایا جو انھیں طرح طرح کی جادو گریاں دکھا رہا تھا جندب نے اپنی تلوار سے اس کا سر تن سے جدا کردیا رہی بات زید کی سو مسلمانوں کی کسی جنگ میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور پھر علی کا ساتھ دے گا چنانچہ جنگ جمل میں حضرت علی (رض) کا ساتھ دیتے ہوئے زید (رض) قتل کر دئیے گئے۔ (رواہ ابن عساکر)