36935- عن ابن عباس قال: مر حارثة بن النعمان على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه جبريل يناجيه فلم يسلم فقال جبريل: ما منعه أن يسلم؟ إنه لو سلم لرددت عليه، ثم قال: إنه من الثمانين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما الثمانون؟ قال: يفر الناس عنك غير الثمانين فيصبرون معك، ورزقهم ورزق أولادهم في الجنة، فلما رجع حارثة سلم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا سلمت حين مررت؟ قال: رأيت معك إنسانا فكرهت أن أقطع حديثك، قال: ورأيته؟ قال: نعم، قال: ذاك جبريل وقد قال، فأخبره بما قال جبريل. "طب" وأبو نعيم1
٣٦٩٣٥۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ حارثہ بن نعمان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرے آپ کے پاس جبرائیل امین بیٹھے ہوئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سرگوشی کر رہے تھے حارثہ (رض) آگے نکل گئے اور انھیں سلام نہ کیا جبرائیل امین نے کہا : اس شخص نے سلام کیوں نہیں کیا۔ اگر یہ سلام کرتا میں اس کے سلام کا جواب دیتا پھر کہا : یہ شخص اسی (٨٠) میں سے ہوگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اسی سے کیا مراد ہے ؟ جواب دیا : اسی آدمیوں کے علاوہ باقی لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور یہ اسی آدمی آپ کے ساتھ صبر کیے رہیں گے ان کا اور ان کی اولاد کا رزق جنت میں ہے۔ جب حارثہ (رض) واپس لوٹے سلام کیا ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم ہمارے پاس سے گزرے ہمیں سلام کیوں نہیں کہا : حارثہ (رض) نے عرض کیا : میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص بیٹھا ہوا دیکھا تھا میں نے آپ کی گفتگو کو منقطع کرنا اچھا نہیں سمجھا۔ فرمایا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا : وہ جبرائیل امین تھے پھر آپ (رض) نے انھیں جبرائیل (علیہ السلام) کی بات سنائی۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم)