36953- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج وقد رش حسان فناء أطمة وأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم سماطان1 وبينهم جارية لحسان يقال لها سيرين معها مزهر لها تغنيهم وهي تقول في غنائها: هل علي ويحكم ... إن لهوت من حرج فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: لا حرج. "كر"، وفيه عبد الرحمن بن الحارث الملقب جحدر، قال "عد": يسرق الحديث.
٣٦٩٥٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لائے اور حسان (رض) صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کر رہے تھے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) دو جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے ان کے درمیان حسان (رض) کی ایک چھوٹی سی لڑکی جسے سیرین کے نام سے پکارا جاتا تھا ہاتھ میں باجا لیے گانا گا رہی تھی اور وہ یہ شعر گا رہی تھی۔
ھل علی ویحکم ان لھوت من حرج
تمہاری ہلاکت ! اگر میں گانا گا ؤن مجھ پر کوئی حرج ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا : کوئی حرج نہیں۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ عبد الرحمن بن حارث الملقب جحدؤ وقال ابن عدی یسرق والحدیث)