36977- عن عائشة قالت: لما كان يوم أحد هزم المشركون وصاح إبليس: أي عباد الله! أخراكم، فرجعت أولاهم فاجتلدت هي وأخراهم، فنظر حذيفة فإذا هو بأبيه اليمان فقال: عباد الله! أبي أبي؛ قالت: فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه! فقال حذيفة: غفر الله لكم! قال عروة: فوالله ما زالت في حذيفة بقية خير حتى لحق بالله. "ش".
٣٦٩٧٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ احد میں جب مشرکین ہزیمت زدہ ہوئے ابلیس لعین چیخ اٹھا کہ اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کا دھان رکھو چنانچہ آگے والے پیچھے ہٹ گئے وہ اور پیچھے والے گتھم گھتا ہوگئے۔ چنانچہ حذیفہ (رض) نے دیکھا کہ وہ اپنے باپ یمان کے پاس کھڑے ہیں اور کہا : اے اللہ کے بندو ! یہ ہے میرا باپ عائشہ (رض) کہتی ہیں بخدا مسلمانوں نے زرہ برابر بھی باک نہیں محسوس کی حتیٰ کہ ایمان کو قتل کردیا۔ حذیفہ (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے عروہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! حذیفہ (رض) جب تک زندہ رہے خیروبھلائی ان کے دامن میں پڑی رہی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)