36988- عن الحارث بن مالك الأنصاري قال: مررت بالنبي صلى الله عليه وسلم فقال: كيف أصبحت يا حارث؟ قلت: أصبحت مؤمنا حقا، فقال: انظر ما تقول! فإن لكل شيء حقيقة فما حقيقة إيمانك؟ قلت: قد عزفت نفسي عن الدنيا وأسهرت لذلك ليلى وأظمأت نهاري وكأني أنظر إلى عرش ربي بارزا وكأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها وكأني أنظر إلى أهل النار يتضاغون فيها ، فقال : يا حارث ! عرفت فالزم - قالها ثلاثا (طب وأبو نعيم)
٣٦٩٨٨۔۔۔ حضرت حارث بن مالک انصاری (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ کے فرمایا : اے حارث ! تم نے صبح کس مال میں کی ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے پکے اور سچے مومن کی حالت میں صبح کی ہے ارشاد فرمایا : زرہ دیکھوتم کیا کہہ رہے ہوچونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے بھلاتمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے اپنے آپ کو دنیا سے الگ کرلیا اسی کے لیے میں رات کو جاگتا رہا اور دن کو پیاسا رہا گویا میں سرعام اپنے رب تعالیٰ کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں بیدار گویا میں اہل جنت کو ایک دوسرے کی زیارت (ملاقات) کرتے دیکھ رہا ہوں گویا میں اہل دوزخ کو دوزخ میں چیخ و پکار کرتے دیکھ رہا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : اے حارث تم نے اپنے ایمان کی حقیقت پہچان لی لہٰذا اسی کو لازم رکھو۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)