37000- عن قيس بن زهير قال: انطلقت مع حنظلة بن الربيع إلى مسجد فرات بن حيان فحضرت الصلاة فقال لحنظلة: تقدم، حنظلة: أنت أكبر مني وأقدم هجرة والمسجد مسجدك، قال فرات: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيك شيئا لا أتقدمك أبدا، فقال حنظلة: أشهدته يوم أتيته بالطائف فبعثني عينا؟ قال: نعم، فتقدم حنظلة فصلى بهم، قال فرات: يا بني عجل! إنما قدمت هذا لشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه عينا إلى الطائف فأتى فأخبره الخبر، فقال: صدقت، ارجع إلى منزلك
٣٧٠٠٠۔۔۔ قیس بن زبیر کہتے ہیں : میں حنظلہ بن ربیع (رض) کے ساتھ حضرت فرات بن حیان (رض) کی مسجد میں گیا اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا فرات (رض) نے حنظلہ (رض) سے کہا : اے حنظلہ آگے بڑھ اور امامت کراؤ چونکہ تم عمر میں مجھ سے بڑے ہو اور مجھ سے پہلے ہجرت کی ہے دراں حالیکہ یہ مسجد بھی آپ کی مسجد ہے، فرات (رض) بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے متعلق ارشاد فرماتے سنا ہے لہٰذا میں کبھی آگے نہیں ہوں گا چنانچہ حنظلہ (رض) آگے بڑھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی فرات (رض) بولے : اے بنی عجل ! میں نے انھیں آگے اس لیے کیا ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے دراں حالیلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اٹھیں جاسوسی کے لیے طائف روانہ کیا چنانچہ یہ طائف کی خبر لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے حنظلہ (رض) بولے : تم نے سچ کہا : لہٰذا اب اپنے گھرواپس لوٹ جاؤ، چونکہ تم رات بھر جاگتے رہے ہو جب واپس ہوتے آپ نے ہم سے فرمایا : اس جیسے لوگوں کو اپنا امام بناؤ۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)