37018- "مسند عمر" عن أبي علي الحرمازي قال: دخل هشام بن البختري في أناس من بني مخزوم على عمر بن الخطاب فقال له: يا هشام! أنشدني شعرك في خالد بن الوليد، فأنشده فقال: قصرت في الثناء على أبي سليمان رحمه الله إن كان ليحب أن يذل الشرك وأهله وإن كان الشامت به لمتعرضا لمقت الله، ثم قال عمر: قاتل الله أخا بني تميم ما أشعره:
فقل للذي يبقي خلاف الذي مضى.تهيأ لأخرى مثلها فكأن قد
فما عيش من قد عاش قبلي بنافعي.
...
ولا موت من قد مات قبلي بمخلدي
ثم قال: رحم الله أبا سليمان! ما عند الله خير له مما كان فيه، ولقد مات فقيدا وعاش حميدا ولكن رأيت الدهر ليس بقائل. "كر".
٣٧٠١٨۔۔۔” مسند عمر “ ابوعلی (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہشام بن بختری بنی مخزوم کے چند لوگوں کے ساتھ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ہشام ! مجھے اپنے وہ اشعار سناؤ جو تم نے خالد بن ولید کے متعلق کہتے ہیں چنانچہ ہشام نے وہ اشعار سنائے پھر کہا : میں نے ابوسلیمان کی مدح میں کم اشعار کہے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اگرچہ شرک اور اہل شرک کو ذلیل کرنا انھیں بہت پسند تھا اور گستاخ ان کے آگے اللہ کے عذاب کا مستحق بن جاتا تھا پھر عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بنی تمیمی کے بھائی کو قتل کرے کیا خوب اچھا تھا
فقل للذی بقی خلاف الذی مضی
تصیا لا حدی مثلھا فکان
قد فماعیش من قدعاش قبلی بنافعی
ولاموت قدمسات قبلی بمخائسدی
باقی زندہ رہے جانے والوں سے کہو وہ کچھ جو گزشتہ کے خلاف ہے اس جیسی ایک اور موت کے لیے تیاری کروگویا سج کا وقوع ہوچکا ہے جو مجھ سے پہلے زندہ رہے ان کی زندگی کس نفع کی تھی اور جو مجھ سے پہلے مرچکے ان کی موت کس کام کی۔
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ابوسلیمان (خالد بن ولید (رض) کی کنت تھی) پر رحم فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے لیے دنیا سے بدرجہ بہتری ہے البتہ وہ دنیا سے رخصت ہوئے کہ اپنا ثانی نہیں چھوڑا اور جو زندگی گزاری وہ بھی قابل ستائش ہے لیکن تم زمانہ دھونڈوگے ان کی مثال نہ ملے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
میں کہتا ہوں تو مرا نہیں یقیناً دنیا مرگئی
مگر تیرے جامرنے سے ویرانی آگئی
تیری موت نہیں عالم کی موت ہے
ہر سو جس سے تاریکی چھا گئی
زندگی میں حمید تھا مزا ہے فقید ہے
تاقیامت بھر زمانہ فتگی رلا گئی (ازمترجم)