hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 37055

.

كنز العمال

37055
Kanz al-Ummal
37045- عن قريرة بنت الحارث قالت: جئنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة وهو نازل بالأبطح وقد ضربت عليه قبة حمراء فبايعناه واشترط علينا فبينا نحن كذلك إذ أقبل سهيل بن عمرو أحد بني عامر بن لؤي كأنه جمل أورق فلقيه خالد بن رباح أخو بلال بن رباح وذلك بعد ما طلعت الشمس فقال: ما منعك أن تعجل الغدو على رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا النفاق؟ والذي بعثه بالحق لولا شيء لضربت بهذا السيف فلحتك! وكان رجلا أعلم، فانطلق سهيل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ألا ترى ما يقول لي هذا العبد؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعه فعسى أن يكون خيرا منك فتلتمسه فلا تجده، وكانت هذه أشد عليه من الأولى.ابن منده، "كر" وفيه موسى بن عبيدة ضعيف.
٣٧٠٤٥۔۔۔ قریرہ بنت حارث کہتی ہیں ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ابطح میں ٹھہرے ہوئے تھے آپ پر سرخ رنگ کا قبہ بنادیا گیا تھا ہم نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ نے ہمارے اوپر شرائط لاگو کیں اسی دوران بنی عامر بن لوی کا ایک شخص سہیل بن عمرو سامنے سے آیا وہ یوں لگتا تھا جیسا کہ خاکستری کا اونٹ ہو اس کی خالد بن رباح (بلال (رض) کے بھائی) سے ملاقات ہوئی جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا خالد (رض) بولے : تمہیں صبح صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے سے صرف اور صرف نفاق (منافقت) نے روکے رکھا ہے قسم ! اس ذات کی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا ہے اگر ایک وجہ نہ ہوتی میں تلوار سے تمہیں دولخت کردیتا چنانچہ سہیل بن عمرو سمجھدار شخص تھا فورا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ غلام مجھے کیا کہہ دیا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑدو، کیا بعیدوہ تم سے بدر جہابہتر ہو اور پھر تم اسے تلاش کروپرا سے کہیں بھی نہ پاسکو چنانچہ سہیل بن عمرو کیلئے یہ بات پہلی سے زیادہ سخت تھی (رواہ مندہ وابن عساکر وفیہ موسیٰ بن عبیدہ وھو ضیعف)