37049- "مسند أسيد بن حضير" عن حسين وسعدى ولدي ثابت بن أسيد بن ظهير عن أبيهما عن جدهما قال: استصغر رسول الله صلى الله عليه وسلم رافع بن خديج يوم أحد، فقال له عمه ظهير: يا رسول الله! إنه رجل رام، فأجازه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأصابه سهم في لبته، فجاء به عمه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن ابن أخي أصابه سهم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أحببت أن نخرجه أخرجناه، وإن أحببت أن ندعه فإنه إن مات وهو فيه مات شهيدا. "أبو نعيم"
٣٧٠٤٩۔۔۔” مسند اسید بن حضیر “ حسین وسعدی ولد ثابت بن اسید بن ظہیر اپنے والد اور دادا سے روایت نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت رافع بن خدیج (رض) کو چھوٹا سمجھ کر غزوہ میں شامل ہونے کا اجازت نہ دی رافع (رض) کے چچا ظہیر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ ! رافع تیرا انداز ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی چنانچہ دوران جنگ رافع (رض) کو گلے میں تیرلگا انھیں ان کے چچا لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میرے بھتیجے کو تیر لگا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم اسے نکالنا چاہتے ہو تو ہم اسے نکال دیں گے اور اگر اسی طرح چھوڑنا چاہتے ہو اور پھر وہ مرجائے بلاشبہ وہ شہید کی موت مرے گا۔ (رواہ ابونعیم)
حرف زاء۔۔۔ حضرت زبیر بن عوام (رض)
خلفاء اربعہ کے بعد عشرہ مبشرہ میں حضرت زبیر بن عوام (رض) کا تذکرہ ہوچکا ہے۔