37052- عن سالم بن عبد الله قال: كنا مع ابن عمر يوم مات زيد بن ثابت فقلت: مات عالم الناس اليوم! فقال ابن عمر: يرحمه الله اليوم! فقد كان عالم الناس في خلافة عمر وحبرها، فرقهم عمر في البلدان ونهاهم أن يفتوا برأيهم، وجلس زيد بن ثابت بالمدينة يفتي أهل المدينة وغيرهم من الطراء - يعني القدام."ابن سعد".
٣٧٠٥٢۔۔۔ سالم بن عبدا (رض) کہتے ہیں : جس دن زید بن ثابت (رض) دنیا سے رخصت ہوئے ہم ابن عمر (رض) کے پاس تھے میں نے کہا : آج لوگوں کا عالم دنیا سے رخصت ہوچکا ہے ابن عمر (رض) نے فرمایا : عمر (رض) کے دور خلافت میں یہ شخص لوگوں کا عالم تھا اور ان کے دور خلافت کا صبر ہے۔ عمر (رض) لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجتے تھے اور انھیں اپنی رائے کے مطابق فتویٰ دینے سے منع فرماتے تھے جب کہ زیدبن ثابت مدینہ میں مجلس لگاتے مدینہ میں مجلس لگاتے اہل مدینہ اور باہر کے لوگوں کو فتویٰ دیتے تھے۔ (رواہ ابن سعد)