37065- "مسند جبلة بن حارثة الكلبي" عن جبلة بن حارثة قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! ابعث معي أخي زيدا، قال: هو ذا بين يديك! فإن انطلق معك لم أمنعه، فقال زيد: لا والله يا رسول الله لا أختار عليك أحدا أبدا! قال جبلة: فكان رأى؟؟؟ "رأي" أخي أفضل من رأيي". "ع، قط" في الأفراد، "طب" وأبو نعيم، "ن، كر"
٣٧٠٦٥۔۔۔” مسند جبلہ بن حارثہ کلبی (رض) “ جبلہ بن حارثہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ میرے ساتھ میرے بھائی زید کو بھیج دیں آپ نے فرمایا : وہ یہ تمہارے سامنے کھڑا ہے اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے میں اسے نہیں روکتا اتنے میں زید (رض) بول پڑے اور کہا : یارسول اللہ ! نہیں نہیں اللہ کی قسم : میں آپ پر کسی اور کو ترجیح نہیں دوں گا جبلہ کہتے ہیں : میرے بھائی کی رائے میری حقیر رائے سے بدرجہا افضل تھی۔ (رواہ ابویعلی والدرقطنی فی الا افراد والطبرانی و ابونعیم والسائی وابن عساکر)