37069- عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إني رفعت إلى الجنة فاستقبلتني جارية، فقلت: لمن أنت يا جارية؟ قالت: لزيد بن حارثة، وإذا أنا بأنهار من ماء غير آسن وأنهار من لبن لم يتغير طعمه وأنهار من خمر لذة للشاربين وأنهار من عسل مصفى، ورمانها كأنه الدلاء عظما وإذا بطائرها كأنه بختكم هذه! فقال عندها رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أعد لعباده الصالحين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر. "كر". وفيه أبو هارون العبدي.
٣٧٠٦٩۔۔۔ ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے جنت میں لے جایا کیا جنت میں ایک لڑکی نے میرا استقبال کیا میں نے اس سے پوچھا : اے لڑکی تو کس کی ہے اس نے جواب دیا میں زید بن حارثہ کی ہوں پھر اس کے بعد میں صاف ستھرے پانی کی نہروں دودھ کی نہروں جو کبھی خراب نہیں ہوتا اور شراب کی نہروں جو پینے والوں کو بھرپور لذت فراہم کرتا ہے اور صاف و شفاف شہد کی نہروں پر کھڑا ہواجنت کے اناریوں لگتے تھے گویا کوئی بڑا ڈول لٹک رہا ہو میں نے جنت کے پرندے بھی دیکھے جو تمہارے بختی اونٹوں جیسے تھے اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک کاربندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں پیدا کررکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے ان کے متعلق سنا اور نہ ہی کسی بشر کے دل میں ان کا خیال کھٹکا۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابوہارون عبدی ہے۔