37079- عن أبي مجلز بن حميد عن ابن عباس وابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في غزوة فكان يتناوب أصحاب سوق الإبل، فإذا كان نوبة رسول الله صلى الله عليه وسلم حدا بالركب ويقول: زيد الخير وما زيد! جندب وما جندب! فلما أصبح قلنا؟ يا رسول الله! رأيناك تذكر زيدا وجندبا فأكثرت من ذكرهما، قال: هما رجلان من أمتي، أما أحدهما فيسبقه بعض جسده أو يده إلى الجنة وأما الآخر فيفرق بين الحق والباطل، فأما زيد فأصيبت يده يوم جلولاء وقتل يوم الجمل، وأما جندب فإنه مر بالوليد بن عقبة فإذا ساحر يلعب بين يديه فحمل بسيفه وجاء فضرب الساحر فقتله. "كر".
٣٧٠٧٩۔۔۔ ابومجلزبن حمید ابن عباس ، وابن عمر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ میں تھے اور صحابہ (رض) باری باری سوار ہوتے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باری آئی آپ سواروں کے لیے حدی دیتے اور فرماتے : زید اچھا ہے اور زید کیا ہے جندب اور جندب کیا ہے صبح ہوئی ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے آپ کو کثرت سے زید (رض) اور جندب (رض) کا تذکرہ کرتے دیکھا ہے اس کی وجہ ہے ؟ فرمایا : یہ میری امت کے دو شخص ہیں رہی بات ان میں سے ایک کی سو اس کے جسم کا کچھ حصہ یا اس کا ہاتھ پہلے سے جنت میں پہنچ جائے گا اور دوسرا شخص حق و باطل کے درمیان فرق کرتا ہے چنانچہ زید (رض) کا ہاتھ غزوہ جلولاء میں کٹ گیا اور خود جنگ جمل میں شہید ہوئے رہی بات جندب کی چنانچہ ایک مرتبہ وہ ولیدبن عتبہ کے پاس سے گزرے اور ولید کے سامنے ایک جادو گر کرتب دکھارہا تھا، جندب (رض) نے اپنی تل اور اٹھائی اور سیدھے آکر جادو گر کے دے ماری اور اسے واصل جہنم کردیا۔ (رواہ ابن عساکر)