37095- "مسند أسيد بن حضير" عن عائشة قالت: قدمنا من حج أو عمرة فنلقينا؟؟ بذي الحليفة وكان غلمان الأنصار يتلقون أهليهم فلقوا أسيد بن حضير فنعوا له امرأته فتقنع وجعل يبكي، فقلت: غفر الله لك! أنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولك من السابقة والقدم مالك وأنت تبكي على امرأة! قالت: فكشف رأسه وقال: صدقت، لعمري ليحق أن لا أبكي على أحد بعد سعد بن معاذ وقد قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال: قلت: وما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: قال: لقد اهتز العرش لوفاة سعد بن معاذ، قالت: وهو يسير بيني وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش، حم" والشاشي، "كر".
٣٧٠٩٥۔۔۔” مسند اسید بن حضیر “ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : ہم لوگ حج یا عمرہ سے واپس لوٹے مقام ” ذوالحلیفہ “ پہنچے وہاں انصار کے لڑکے آکر اپنے گھر والوں سے ملاقات کرنے لگے۔ لڑکے جب حضرت اسید بن حضیر (رض) سے ملے انھیں ان کی بیوی کی موت کی خبر سنائی ۔ اسید (رض) نے سر پر چادر ڈالی اور رونے لگے میں نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہو تم نے پہلے پہل اسلام قبول کیا ہے اور شروع سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہے ہو بھلاتم ایک عورت پر رو رہے ہو ؟ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : اسید (رض) نے سر سے چادر ہٹائی اور بولے : تم سچ کہتی ہو میری عمر کی قسم ! مجھے سعدبن معاذ کے بعد کسی پر نہیں رونا چاہیے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن معاذ (رض) کے متعلق کیا خوب ارشاد فرمایا تھا۔ میں نے استفسار کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا تھا : اسید (رض) بولے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ سعد بن معاذ کی وفات پر عرش جھوم اٹھا ہے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : وہ میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان چلتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والشاشی وابن عساکر)