37129 عن عامر بن عبد الله المعروف بابن عبد قيس أن سلمان حين حضره الموت عرفوا منه بعض الجزع ، قالوا : وما يجزعك يا أبا عبد الله وقد كانت لك سابقة في الخير ، شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مغازي حسنة وفتوحا عظاما ؟ قال : يجزعني أن نبينا صلى الله عليه وسلم حين فارقنا عهد إلينا : ليكفى الرجل منكم كزاد الراكب فهذا الذي أجزعني ، فجمع مال سلمان فكان قيمته خمسة عشر دينارا (حب ، كر).
٣٧١٢٩۔۔۔ عامر بن عبداللہ (رض) المعروف ابن عبدقیس روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت سلمان فارسی (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ (رض) جزع کرنے لگے۔ حاضرین نے کہا : اے ابوعبید اللہ آپ کیوں جزع کر رہے ہیں حالانکہ آپ کو بھلائی میں سبقت حاصل ہے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوات میں شریک رہے اور بڑی بڑی فتوحات میں شامل رہے سلمان (رض) نے فرمایا : تجھے یہ چیز جزع فزع پر مجبور کررہی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رخصت ہوئے آپ نے ہمیں وصیت کی تھی کہ آدمی کو اتنا مال کافی ہے جتنا کہ مسافر کا زدراہ ہوتا ہے۔ پس یہی چیز مجھے جزع پر مجبور کررہی ہے چنانچہ حضرت سلمان (رض) کا مال جمع کرکے اس کی قیمت کا اندازہ لگایا گیا تو وہ پندرہ دینار کے برابر نکلا۔ (رواہ ابن حسان وابن عساکر)