37131 عن مالك عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال : جاء قيس بن مطاطية إلى حلقة فيها سلمان الفارسي وصهيب الرومي وبلال الحبشي فقال : هؤلاء الاوس والخزرج قد قاموا بنصرة هذا الرجل فما بال هؤلاء ؟ فقام إليه معاذ بن جبل فأخذ بتلبيبه حتى أتى به النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بمقالته ، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم مغضبا يجر رداءه حتى دخل المسجد ثم نودي الصلاة جامعة ! فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : يا أيها الناس ! إن الرب رب واحد وإن الاب أب واحد ، وإن الدين دين واحد ، ألا ! وإن العربية ليست لكم بأب ولا أم إنما هي لسان ، فمن تكلم بالعربية فهو عربي ، فقال معاذ وهو آخذ بتلبيبه : يا رسول الله ما تقول في هذا المنافق ؟ فقال : دعه إلى النار ، قال : فكان فيمن ارتد فقتل في الردة (كر).
٣٧١٣١۔۔۔ مالک ، زہری سے ےابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قیس بن مطاطیہ مسلمانوں کے ایک حلقہ کے پاس آیا حلقہ میں حضرت سلمان فارسی صہبت رومی اور بلال حبشی (رض) بھی بیٹھے تھے قیس بن مطالیہ بولا : اوس اور خزرج اس شخص ۔ (سلمان فارسی (رض)) کی مدد کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں لہٰذا ان کا کیا حال ہوگا ؟ حضرت معاذ بن جبل (رض) قیس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے گلے میں چادر ڈال کر اسے پکڑلیا اور اسے کھینچتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے اور اس کی کہی ہوئی بات بیان کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ میں کھڑے ہوئے حتیٰ کہ آپ کی چادر زمین پر گھسٹتی جارہی تھی آپ مسجد میں داخل ہوئے اور اعلان کیا گیا : الصلاۃ جامعۃ “ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا : اے لوگو ! رب تعالیٰ ایک ہے باپ بھی ایک ہے دین بھی ایک ہے خبردار ! عربیت نہ تمہارا باپ ہے نہ ماں یہ تو صرف ایک زبان ہے لہٰذا جو عربی زبان بولتا ہے وہ عربی ہے حضرت معاذ (رض) نے قیس کو گلے میں چادر ڈالا کر پکڑ رکھا تھا عرض کیا : یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اس منافق کے بارے میں کیا فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے دوزخ کے رحم و کرم پر چھوڑدو چنانچہ قیس بن مطالیہ ان لوگوں میں سے ہے جو مرتد ہوگئے تھے اور اسی حالت میں وہ قتل کیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ۔