37140- عن منصور بن صبيح أخي الربيع بن صبيح قال: حدثني سيماه أوسيمويه قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وسمعت من فيه إلى أذني وحملنا القمح من البلقاء إلى المدينة فبعنا وأردنا أن نشتري تمرا من تمر المدينة فمنعونا، فأتينا النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرناه فقال النبي صلى الله عليه وسلم للذين منعونا: أو ما يكفيكم رخص هذا الطعام فيكم بغلاء هذا التمر الذي يحملونه؟ ذروهم يحملونه، وكان سيمويه من أهل البلقاء نصرانيا شماسا أسلم فحسن إسلامه وعاش مائة وعشرين سنة."ابن منده، كر".
٣٧١٣٩۔۔۔ منصور بن صبیح ابیع بن صبیح کے بھائی سیماہ یاسیمویہ سے روایت نقل کرتے ہیں سیمویہ (رض) کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے اور آپ کے منہ مبارک سے میرے کانوں نے باتیں سنی ہیں، ہم بلقاء سے گندم لے کر گئے تھے تاکہ مدینہ میں بیچ دیں اور وہاں سے کھجوریں خریدلائیں۔ لیکن لوگوں نے کھجوروں دے انکار کردیا۔ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو خبر دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کرنے والوں سے فرمایا : کیا تمہیں یہ سستا غلہ کافی نہیں جو یہ اٹھا کر لائے ہیں مہنگی کھجوروں کے بدلہ میں ؟ انھیں چھوڑدو۔ سیمویہ (رض) اہل بلقاء میں سے تھے، غالی قسم کے نصرانی تھے پھر اسلام قبول کیا اور ان کا اسلام اچھا رہا اور ایک سوبیس (١٢٠) سال تک زندہ ہے۔ (رواہ اببن مندہ وابن عساکر)