37145- "مسند سعد بن عبادة" عن الحسن قال قال سعد: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسير ومعنا شيء من تمر فجاءني صفوان ابن المعطل فقال لي: أطعمني من هذا التمر، فقلت: إنه تمر قليل، ولست آمن أن يدعو به - أراد النبي صلى الله عليه وسلم - فإذا نزلوا فأكلوا أكلت معهم، فقال: أطعمني فقد أهلكني الجوع، فأبيت عليه، فأخذ السيف فعقر الراحلة التي عليها التمر، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: قولوا لصفوان فليذهب، فلما نزلوا لم يبت تلك الليلة يطوف في أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حتى أتى عليا فقال: أين أذهب؟ أذهب إلى الكفر؟ فأتى علي النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بذلك فقال: قولوا لصفوان: فليلحق. الشاشي، "كر".
٣٧١٤٤۔۔۔” مسند سعد بن عبادہ “ حسن کی روایت کہ سعد (رض) فرماتے ہیں : ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہمارے پاس تھوڑی سی کھجوریں تھیں صفوان بن معطل (رض) میرے پاس آئے اور کہا : مجھے یہ کھجوریں کھلاؤ میں نے عذر کیا کہ یہ تھوڑی سی کھجوریں ہیں نہ معلوم کب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کھجوریں منگوالیں ، جب صحابہ (رض) کسی جگہ پڑاؤ کریں گے وہ ان کھجوریں کھائیں گے تم بھی ان کے ساتھ مل کر کھا لینا صفوان (رض) بولے : مجھے بھوک نے بہت ستایا ہے لہٰذا کھجوریں کھلاؤ میں نے کھجوریں دینے سے انکار کردیا۔ صفوان (رض) نے تلوار اٹھائی اور اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں جس پر کھجوریں لادی ہوئی تھیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی آپ نے فرمایا : صفوان پوری رات صحابہ (رض) کے پاس چکر لگائے رہے بالاآخر حضرت علی (رض) کے پاس پہنچے اور ان سے بوچھا میں کہاں جاؤں ؟ کیا میں کفر کی طرف چلاجاؤں۔ حضرت علی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انھیں خبر کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صفوان سے کہو : ساتھ مل جائے۔ (رواہ الشافی وابن عساکر)