37148- عن زيد بن أسلم أن عمر بن الخطاب قال لصهيب: لولا ثلاث خصال فيك لم يكن بك بأس، قال: وما هن؟ فوالله ما نراك تعيب شيئا، قال: اكتناؤك بأبي يحيى وليس لك ولد، وادعاؤك إلى النمر بن قاسط وأنت رجل ألكن1، وإنك لا تمسك المال، قال: أما اكتنائي بأبي يحيى فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كناني بها فلا أدعها حتى ألقاه، وأما ادعائي إلى النمر بن ساقط فإني رجل منهم ولن استرضع لي بالإيلة فهذه من ذاك، وأما المال فهل تراني انفق إلا في حق."حم، كر" ووصله "كر" من طريق زيد بن أسلم عن أبيه.
٣٧١٤٧۔۔۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے صہیب (رض) سے فرمایا : اگر تم میں تین خصلتیں نہ ہوتیں تو تمہارے اندر کوئی نقص نہ ہوتا، صہیب (رض) نے کہا : وہ کیا میں جب کہ اللہ کی قسم ہم نے آپ کو کسی چیز پر عیب لگاتے نہیں دیکھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارا ابویحیی کی کنیت اختیار کرنا حالانکہ تمہارا کوئی بیٹا نہیں، تمہارا غربن قاسط کی طرف نسبت کرنا اور یہ کہ تم فضول خرچی کرتے ہو، صہیب (رض) نے فرمایا : رہی بات کہ میں نے ابویحیی کی کنت اختیار کی ہے سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اسی کنیت سے پکارا ہے میں اسے نہیں چھوڑسکتا تاوقتیکہ آپ سے میری ملاقات ہوجائے۔ رہی یہ بات کہ میں نے اپنے آپ کو نمربن قاسط کی طرف منسوب کیا ہے سو میں اسی قبیلہ میں سے ہوں اور ایلہ میں میں نے دودھ نہیں پیاپس یہ اسی وجہ سے ہے رہی بات مال خرچ کرنے کی سو آپ نے مجھے کبھی خرچ کرتے نہیں دیکھا ہوگا مگر حق میں حرچ کرتے۔۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن عساکر ووصلہ ابن عساکر من طریق زید بن اسلم عن ابیہ)