37151- عن صهيب أن أبا بكر مر بأسير له يستأمن له من رسول الله صلى الله عليه وسلم وصهيب جالس في المسجد فقال لأبي بكر: من هذا الذي معك؟ قال: أسير لي من المشركين أستأمن له من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال صهيب: لقد كان في عنق هذا موضع للسيف، فغضب أبو بكر، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما لي أراك غضبان؟ قال: مررت بأسيري هذا على صهيب فقال: لقد كان في رقبة هذا موضع للسيف فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فلعلك آذيته! فقال: لا والله، فقال: لو آذيته لآذيت الله ورسوله."كر".
٣٧١٥٠۔۔۔ صہیب (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ایک قیدی کے ساتھ گزرے تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے لیے امان طلب کریں جب کہ صہیب (رض) مسجد میں تشریف فرما تھے : انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا : آپ کے ساتھ یہ کون ہے ؟ ابوبکر (رض) نے جواب دیا : یہ میرا قیدی ہے اور مشرک ہے میں اس کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امن طلب کرنے جارہا ہوں صہیب (رض) نے کہا : اس کی گردن میں تلوار کی جگہ ہے (یعنی اسے تو قتل کیا جائے گا) سن کر ابوبکر (رض) سخت غصہ ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو دیکھ کر فرمایا : غصہ کیوں ہورہے ہیں ابوبکر (رض) نے کہا : میں اپنے اس قیدی کو لیے صہیب کے پاس سے گزرا صہیب نے کہا : اس شخص کی گردن میں تلوار زنی کی جگہ ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہوسکتا ہے تم نے صہیب کو اذیت پہنچائی ہو۔ ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم نہیں : فرمایا : اگر تم نے اسے اذیت پہنچائی ہوتی بلاشبہ تم اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے۔ (رواہ ابن عساکر)