37154- "مسند عمر" عن أبي بكر أحمد بن يحيى البلاذري قال: كان ضرار بن الخطاب بن مرداس الفهري بالسراة فوثبت دوس عليه ليقتلوه، فسعى حتى دخل بيت امرأة يقال لها
أم جميل، واتبعه رجل لضربه فوقع ذباب السيف على الباب، وقامت في وجوههم فذبتهم، ونادت قومها فمنعوه لها، فلما استخلف عمر بن الخطاب ظنت أنه أخوه فأتت المدينة، فلما كلمته عرف القصة فقال: لست بأخيه إلا في الإسلام وهو غاز بالشام وقد عرفت منتك عليه، فأعطاها على أنها ابنة السبيل. "كر
٣٧١٥٣۔۔۔” مسند عمر (رض) “ ابوبکر احمد بن یحییٰ بلاذری کہتے ہیں : حضرت ضرار بن خطاب بن مرد اس فہری (رض) ” سرات “ نامی جگہ میں تھے قبیلہ دوس کے لوگوں نے انھیں قتل کرنے کے لیے چڑھائی کردی ضرار (رض) بھاگنے میں کامیاب ہوگئے اور ایک عورت جسے ام جمیل کہا جاتا تھا کے گھر داخل ہوگئے آپ کا پیچھا کرتا ہوا ایک شخص وہاں جاپہنچا تلوار سے ایک وار کیا اور تلوار کے دندانے دروازے سے ٹکڑائے ام جمیل آڑ سن کر دروازے میں کھڑی ہوگئی اور بھرپور دفاع کرنے لگی پھر اپنی قوم کو آواز دی قوم نے آکر لوگوں کو پیچھے ہٹادیا جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے ام جمیل سمجھیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ضرار بن خطاب (رض) کے بھائی ہیں ام جمیل مدینہ آگئیں اور واقعہ آپ (رض) کے گوش گزار کیا عمر (رض) نے فرمایا : میں اس کا بھائی نہیں ہوں البتہ تمہارے درمیان اسلام کا رشتہ ہے وہ اس وقت شام میں جو اہرشجاعت دکھا رہے ہیں میں ہمارے احسان کا اعراف کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے ام جمیل کو مسافرہ سمجھ کر عطیات دیئے۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔ حضرت ضرار بن خطاب بن مرداس (رض) کو نصیحت کا شرف حاصل ہے عظیم شہسوار اور شجاع تھے جنگ یمامہ
میں شہید ہوئے دیکھے الاصابہ الابن حجر ٢٠٩٢۔