37157- عن موله بن كنيف1 أن الضحاك بن سفيان الكلابي كان سيافا لرسول الله صلى الله عليه وسلم قائما على رأسه متوشحا سيفه، بنو سليم في تسعمائة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل لكم في رجل يعدل مائة يوفيكم ألفا؟ فوفاهم بالضحاك بن سفيان، فلما أفلوا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس بن مرداس: ما لقومي كذا؟ يريد قتلهم، وما لقومك كذا؟ يريد يدفع عنهم، فقال العباس:
نذود أخانا عن أخينا ولو نرى. ... مهرا لكنا الأقربين نتابع
نبايع بين الأخشبين وإنما. ... يد الله بين الأخشبين تبايع
عشية ضحاك بن سفيان معتص. ... بسيف رسول الله والموت كانع
"كر".
٣٧١٥٦۔۔۔ مولہ بن کنیف کی روایت ہے کہ حضرت ضحاک بن سفیان کلابی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تیغ زن (گاڑ) تھے تلوار نکالے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سرکے پاس کھڑے رہتے بنوسلیم کی تعداد ٩٠٠(نوسو) کے لگ بھگ تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں ایسا شخص چاہے جو ایک سو کے برابر ہو ؟ چنانچہ آپ نے ضحاک بن سفیان (رض) کو پیش کیا جب واپس لوٹے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عباس بن مرداس (رض) سے فرمایا : میری قوم کو کیا ہوا ؟ وہ ان کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تمہاری قوم کو کیا ہوا وہ ان کا دفاع کرنا چاہتا ہے۔ عباس (رض) نے یہ اشعار کہے :
نذودا خاناعن اخیناولونری
مھرالکنا الاقربین نتابع
نبایع بین الا خشبین وانما
یداللہ بین الاخشبین بتایع
عشیۃ ضحاک ب سفیان معتص
بسیف رسول اللہ والموت کا نع
ہم اپنے بھائی کو اپنے ہی دوسرے بھائی سے پیچھے ہٹا رہے ہیں اگرچہ ہم کوئی برانگیختہ کرنے والا دیکھتے ہیں لیکن اقرباء کے پیچھے چلتے ہیں ہم نے دو قبیلوں کے درمیان بیعت کی ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھی دونوں قبیلوں پر ہے رات کو ضحاک بن سفیان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار سے غلطی کردی جب کہ موت قریب کھڑی تھی۔ (رض)